فروری 12, 2026

Blog

لاہور: معروف ٹک ٹاکر علینا عامر کی مبینہ نامناسب ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی گئی ہے اور مقدمہ نیشنل سائبر کرائم ادارے میں درج کروا دیا گیا ہے۔ علینا عامر کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی اور ڈیپ فیک ہے، جس میں کسی اور لڑکی کی ویڈیو پر ان کا چہرہ لگا کر سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ متنازعہ ویڈیو تقریباً دو ہفتے قبل مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی، جس کے بعد علینا عامر شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہیں۔ ابتدائی طور پر انہوں نے خاموشی اختیار کی، لیکن جب ویڈیو سے متعلق متعدد پوسٹس اور تبصرے سامنے آئے تو انہوں نے قانونی راستہ اختیار کیا۔

علینا عامر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گی اور ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ صرف ویڈیو بنانے والوں بلکہ اسے شیئر اور فروغ دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ علینا عامر نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر حنا پرویز بٹ اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کیس میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام لڑکیوں کے لیے آواز بلند کریں گی جو اس قسم کے واقعات کے بعد خوف یا دباؤ کے باعث خاموش ہو جاتی ہیں۔ اس واقعے سے ایک بار پھر ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور آن لائن ہراسگی کے سنگین مسئلے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم قوانین کے تحت ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔