اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام چلنے والی گرین الیکٹرک بس سروس کے کنڈکٹرز کو تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی اور کم معاوضے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ایک کنڈکٹر نے 9 فروری کو بتایا کہ انہیں گزشتہ ماہ کی تنخواہ تاحال موصول نہیں ہوئی۔
متاثرہ کنڈکٹر کے مطابق ان کی ماہانہ تنخواہ 25 ہزار 500 روپے مقرر ہے، جو کہ اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنخواہیں نہ صرف تاخیر سے ملتی ہیں بلکہ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بجائے دیگر طریقوں سے ادا کی جاتی ہیں۔ کنڈکٹرز کا مؤقف ہے کہ ایک سرکاری ادارے کے تحت کام کرنے کے باوجود انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق مراعات اور بروقت ادائیگی نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب شہریوں نے سینٹورس مال کے بالمقابل جناح ایونیو پر واقع پمز میٹرو اسٹیشن سے پمز اسپتال کی جانب جانے والے راستے پر دو مین ہول کھلے ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ مذکورہ راستہ روزانہ ہزاروں افراد استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت حادثے کا خدشہ موجود ہے۔
شہریوں نے سی ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کھلے مین ہولز پر ڈھکن نصب کرے اور ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے کو کسی ناخوشگوار واقعے کا انتظار کیے بغیر حفاظتی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
تاحال سی ڈی اے حکام کی جانب سے ان معاملات پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔