منی پور میں آگ اور خون کا کھیل جاری
رپورٹ ۔۔ دی مائنڈ
بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر 2023 کے طرز کی تشدد کی لہر بھڑک اٹھی ۔ تشدد کی نئی لہر کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکت اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں جبکہ اُکھرُل کے لیتان میں 30 سے زائد مکانات نذرِ آتش ہوئے ۔ صوبے میں سنگین صورتحال کے باعث کوکی قبیلے کے مکینوں کی نقل مکانی بھی جاری ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق منی پور کے ضلع اُکھرُل کے لیتان گاؤں میں منگل کی صبح ایک بار پھر فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس دوران متعدد مکانات کو آگ لگا دی گئی۔ اگرچہ سرکاری سطح پر ابھی تک حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم بین الاقوامی میڈیا کے مطابق علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے ۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے لیتان اور اس کے اطراف میں بھاری تعداد میں سیکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں، تاہم اس کے باوجود حالات بدستور انتہائی کشیدہ ہیں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کوکی اور تانگکھول دونوں برادریوں کے مکین اپنے گھروں سے سامان سمیت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرتے دکھائی دیے۔
امن کی اپیل
منی پور کے وزیر اعلی منسٹریومنم کھیم چند سنگھ نے علاقے کے عوام سے امن، ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں دونوں برادریوں کے نمائندوں اور متعلقہ حکام، بشمول ضلع انتظامیہ، نے شرکت کی۔اس اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹرلوسیی ڈکھو، ایم ایل اے رام موئیواہ اور کمنیو ہاؤکپ بھی موجود تھے۔ تاہم اجلاس کے اختتام پر کسی ٹھوس حل یا باضابطہ مفاہمت پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

تشدد کی لہر کیوں بھڑک اٹھی
منی پور گزشتہ کئی مہینوں سے نسلی اور قبائلی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں مختلف برادریوں کے درمیان زمین، شناخت اور سیاسی نمائندگی کے معاملات پر تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔ اُکھرُل ضلع، جہاں تانگکھول ناگا برادری کی اکثریت ہے، حالیہ عرصے میں کوکی برادری کے ساتھ جھڑپوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت اور مرکزی فورسز کی کوششوں کے باوجود وقفے وقفے سے تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس سے امن کی بحالی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تازہ جھڑپوں اور احتجاج نے ریاست کو نئی بحران زدہ لہر میں دھکیل دیا، 5 اور 6 فروری کو سیاسی تبدیلی کے بعد مظاہروں نے تشدد اور جھڑپوں کی شکل اختیار کر لی، کوکی قبائل نے اکثریتی ضلع میں امپھال چورا چند پور روڈ بند کرکے احتجاج کیا۔
عینی شاہدین نے کیا دیکھا
عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سیدھی گولیاں چلا دیں، 2 افراد ہلاک جبکہ 10 شدید زخمی ہوئے، ہندو قوم پرستی اور ریاستی بھرتیوں میں ترجیحی پالیسیوں نے نسلی تناؤ کو مزید بڑھایا۔ ان واقعات کے بعد منی پور بھی ناگا لینڈ اور میزو رام جیسی نظرانداز کی گئی شمال مشرقی ریاستوں میں شامل ہوگیا۔
انٹرنیٹ سروس معطل
منی پور کے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور انٹرنیٹ مکمل بند ہے۔ شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر کیا چل رہا ہے ؟؟؟
سوشل میڈیا پر مختلف اکاونٹس بھی منی پور کی صورتحال کے حوالے سے پل پل کی خبر شیئر کی جارہی ہے ۔
ایک بھارتی خاتون صحافی نے لکھا ۔۔ منی پور میں بھارتی فوج اور مقامی باشندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ 17 افراد ہلاک اور 87 زخمی ہوئے۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، پوری ریاست منی پور ایک جنگی علاقے سے مشابہ ہے۔
ایک اور اکاونٹ پر یہ لکھا گیا ہے ۔۔۔اکھڑول ضلع میں حالات کشیدہ ہیں۔ گھروں کو جلایا جا رہا ہے۔ آسام رائفلز نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 4 کوکی شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ بھارت کے منی پور میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
منی پور کے لوگوں نے گزشتہ روز پورے خطے میں زبردست احتجاج کے بعد بھارتی فوج کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
بھارت کی مرکزی سرکار نے صورتحال کو قابو کرنے کیلئے دو ہزار مسلح فوجی تعینات کردیئے ۔ اس دوران وزیر اعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔