*05اگست2019کے اقدام کے نتیجے میں تحریک آزدی کشمیر کا کردار سرینگر سے مظفر آباد منتقل ہوگیا،ڈاکٹر محمد مشتاق خان
اسلام آباد… محمد شہباز
امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر گلگت بلتستان ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک کروڑ چالیس لاکھ آبادی کو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بنیادی حق خودارادیت سے محروم رکھا گیا ،گوکہ سلامتی کونسل کشمیری عوام کیساتھ استصواب رائے کے ذریعے حق خودارادیت کی ضامن ہے،البتہ مسئلہ کشمیر پر 16سے زائد قراردادیں ہنوز عملدرآمد سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے کشمیری عوام کی حالت بدتر ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری کی خاموشی نے اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے ان خیالات اظہار آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے 05اگست2019کے اقدام کے نتیجے میں تحریک آزدی کشمیر کا کردار سرینگر سے مظفر آباد منتقل ہوگیاہے،لہذا اہل آزاد کشمیر اور یہاں کے ارباب اقتدار نے اس کردار کو اب بخوبی نبھانا ہے۔کیونکہ ریاست کی تینوں اکائیوں پر مشتمل ریاست جموں وکشمیر حل طلب ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ریاستی عوام نے آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے کرنا ہے،جس میں بھارت واحد رکاوٹ ہے۔اس رکاوٹ کو دور اور ختم کرنے کیلئے ریاست کے تینوں خطوں کے عوام پر یہ لازم ہے کہ وہ مساوی جدوجہد اور کاوشیں کریں اور اس میں تفریق نہیں ہونی چاہیے۔امیر جماعت اسلامی آزا د جموں و کشمیر گلگت بلستان نے کہا کہ 05اگست2019کے بعد بھارت نے کشمیری عوام کیلئے سانس لینا مشکل بنادیا،پوری آزادی پسند قیادت بھارتی جیلوں میں قید کی جاچکی ہے،بیشتر رہنما شدید بیماری سے دوچار ہیں،مقبوضہ جموں وکشمیر میں آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے،ان حالات میں ہم نے اپنی پوری صلاحیتوں کا رخ نہ صرف تحریک آزادی کی جانب موڑنا ہے بلکہ آزاد خطے کے عوام کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کی مدد و حمایت کیلئے متحرک بھی کرنا ہے۔جو جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کا بنیادی ہدف ہے،جس پر آج تک کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا اور نہ ہی آئندہ اس کرداد سے صرف نظر کیا جائے گا۔انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ اپنا قلم اور کمیرہ تحریک آزادی کشمیر کیلئے استعمال کریں،کیونکہ قلم اور کمیرہ اپنی طاقت کا لوہا پوری دنیا میں منواچکے ہیں۔چونکہ میڈیا سے وابستہ لوگوں کی اپنی ایک فین فالونگ ہے ،جس سے بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر ہم سے جس کردار کا تقاضا کرتی ہے،اسے ہم بے خبر اور لاعلم نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے درجنوں نوجوان تحریک آزادی کشمیر میں اپنا گرم گرم لہو نچھاور کرچکے ہیں۔بھارت 1947سے لیکر آج تک قریب قریب چھ لاکھ کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے۔ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں نوجوانو ں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 60سے 70فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، موجودہ دور جین زی کا ہے،نوجوانوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس سلسلے میں جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر نے الخدمت پاکستان کی طرز پر ایک لاکھ نوجوان بچوں اور بچیوں کومختلف فیلڈ میں ہنر مند بنانے کا حتمی پروگرام بنایا ہے،جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ITسرفہرست ہے۔اس پروگرام میں حصہ لینے والے طلبا پر فی کس چالیس ہزار روپے کا خرچہ آرہا ہے جو کہ ایک کثیر رقم ہے،مقصد ان بچوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے تاکہ وہ خود اپنا روز گار کماسکیں۔جماعت اسلامی اس فرض کو نبھانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔اس کے علاوہ پندرہ لاکھ لوگ جماعت کے صحت پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے،ہم نے اپنے امیدوار فائنل کیے ہیں ،اس کے علاوہ اچھی شہرت کے حامل افراد کو ٹکٹ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔تمام اخلاقی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے گالی اور بندوق سے ہر حال میں اجتناب کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر طرف مایوسی کی فضا قائم ہے، لیکن اس مایوسی میں جماعت اسلامی امید کی ایک کرن ہے،جماعت اسلامی نے 60ہزار لوگوں کو نئی ممبر شپ دی ہے،اسی طرح جنرل کونسل میں چار ہزار لوگ ہیں اور وہ اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد خطے میں ایک اچھی حکومت کا فقدان ہے،کرپشن کا دور دورہ ہے،عوام کو مایوسی سے نکال کر انہیں امید دلانے کیساتھ ساتھ اچھی اور معیاری تعلیم دلانا بھی ہمارا فرض ہے،جس سے پہلو تہی نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں کہا کہ اگر بھارت نے 05اگست2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے ایک بھیانک غلطی کی ہے،تو ہمارے ارباب اقتدار کو آزاد کشمیر کو اپنا صوبہ بنانے کی اگر سوچ ہے تو وہ ختم کرنی ہوگی،آزاد کشمیر کے عوام ایسا نہیں ہونے دیں گے اور جماعت اسلامی بھی عوام کیساتھ اپنا کردار ادا نبھائے گی،ہم مملکت پاکستان کے حل وعقد کو ایسی غلطی کا ارتکاب نہیں کریں دیں گے۔غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق اینکر عدیل بشیر کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر اس بورڈ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ بورڈ ثالثی کرانے کی پوزیشن میں ہے،اس کا جھکائو صہیونی اسرائیل کی طرف ہے،لہذا خود مغرب بھی اس بورڈ میں شامل نہیں ہے۔اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے فریقین جن میں پاکستان،بھارت اور کشمیری عوام ہیں،بلاکر اس مسئلے کو حل کرے،جس میں صرف بھارت رکاوٹ ہے۔انہوں نے جماعت کی دعوت پر افطار ڈنر میں شرکت پر صحافیوں کا شکریہ ادا کیا،ان کے ہمراہ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر راجہ جہانگیر خان ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایڈوکیٹ قاضی شاہد اور سیکرٹری اطلاعات راجہ ذاکر خان بھی موجود تھے۔