بھارت میں دیوداسی نظام پھر تنقید کی زد میں آگیا
اسپیسٹین فائلز سامنے آنے کے بعد بھارت میں دیوداسی نظام پر بھی سوال اٹھنے لگے ، بعض لوگ سوشل میڈیا پر اس نظام کو کھل کر تنقید کررہے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ نظام دراصل قدیم ترین اپیسٹین فائلز جیسا معاملے ہے جسے ختم ہونا چاہیے ۔
بھارت میں "دیوداس نظام” دراصل دیوداسی (Devadasi) نظام کو کہا جاتا ہے۔
دیوداسی نظام کیا تھا؟

دیوداسی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "دیوتا کی خادمہ” یا "خدا کی خدمت کرنے والی عورت”
اس نظام کے تحت کم عمر لڑکیوں کو مندروں میں دیوتاؤں کے نام پر وقف کر دیا جاتا تھا۔ یہ لڑکیاں مندر میں رقص اور موسیقی پیش کرتی تھیں۔ مذہبی رسومات ادا کرتی تھیں۔۔ دیوداسی لڑکیاں شادی نہیں کر سکتی تھیں اور اپنی پوری زندگی مندر کی خدمت میں گزارتی تھیں
بعد میں کیا ہوا؟
وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام بگڑ گیا اور کئی جگہوں پر لڑکیوں کا استحصال ہونے لگا انہیں زبردستی وقف کیا جاتا تھا بعض علاقوں میں یہ عمل جسم فروشی سے جڑ گیا
قانونی حیثیت
برطانوی دور اور بعد میں آزادی کے بعد1947 کے بعد مختلف ریاستوں میں دیوداسی نظام پر پابندی لگائی گئی۔ کرناٹک، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں اسے غیر قانونی قرار دیا گیا۔ آج یہ نظام سرکاری طور پر غیر قانونی ہے، لیکن بعض پسماندہ علاقوں میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔
اپیسٹین فائلز سامنے آنے کے بعد بھارت میں اس نظام پر بھی تنقید ہورہی ہے ۔ تنقید کرنے والوں کا ماننا ہے کہ اپیسٹین فائلز اسکینڈل میں جس طرح کم عمر بچوں کا استحصال کیا گیا اسی طرح دیوداسی نظام میں بھی لڑکیوں کا استحصال ہورہا ہے ۔۔