ڈاکٹر مبشرنقوی
آزاد جموں و کشمیر کی سب سے بڑی اور مرکزی جامعہ آج بھی بند ہے۔ کلاس رومز ویران ہیں، لیبارٹریاں خاموش ہیں، دفاتر کے دروازے مقفل ہیں، اور ہزاروں طلبہ غیر یقینی کی کیفیت میں اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پیر کے روز سے جامعہ آزاد جموں و کشمیر ملازمین اور اساتذہ کے احتجاج کے باعث بند ہے۔ وجہ کیا ہے؟ تنخواہوں میں منظور شدہ اضافے کی عدم ادائیگی اور وہ بنیادی مطالبات جو کسی بھی ادارے کے ملازمین کا آئینی و قانونی حق ہوتے ہیں۔
یہ محض ایک احتجاج نہیں، یہ ایک گہری ساختی خرابی کی علامت ہے۔ یہ بحران کسی ایک وائس چانسلر، کسی ایک انتظامیہ یا کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ برسوں سے اعلیٰ تعلیم کے نظام کے بگاڑ میں کئی گئی ان غلطیوں کا خمیاز ہ ہے جس میں پالیسی ساز ادارے اور حکومتیں مکمل طور پرذمہ دار ہیں۔
جامعہ آزاد کشمیر 1980 سے ریاست کی علمی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔ یہی ادارہ اساتذہ، بیوروکریٹس، ماہرینِ زراعت، صحت کے شعبے کے پیشہ ور افراد اور بے شمار نوجوانوں کو تیار کرتا رہا ہے۔ پانچ کیمپسز اور دس ہزار سے زائد طلبہ پر مشتمل یہ ادارہ صرف ایک تعلیمی ڈھانچہ نہیں بلکہ ریاست کی فکری شناخت ہے۔ مگر آج یہی ادارہ مالی دباؤ کے بوجھ تلے سسک رہا ہے۔
چند برس قبل جامعہ کے مختلف کیمپسز کو علیحدہ جامعات کا درجہ دیا گیا۔ اثاثے اور آمدن کے ممکنہ ذرائع تقسیم ہو گئے، مگر پنشن اور ریٹائرمنٹ کی ذمہ داریاں بدستور جامعہ آزاد کشمیر کے پاس رہیں۔ یوں آمدن کم اور اخراجات مستقل بڑھتے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافے تو کیے گئے، مگر ان اضافوں کے لیے درکار فنڈز جامعہ کو فراہم نہیں کیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر سال بجٹ کا خسارہ بڑھتا گیا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آزادکشمیر حکومت سالانہ جامعہ کشمیر کا کتنی ریگولر گرانٹ دیتی ہے؟ 35لاکھ روپے۔جی ہاں سالانہ پینتیس لاکھ روپے جو یونیورسٹی کے سب سے چھوٹے شعبے کے ماہانہ بجٹ سے بھی کم ہے۔
بی اے، بی ایس سی اور ایم اے، ایم ایس سی (پرائیویٹ) پروگرامز کے خاتمے نے جامعہ کی ایک بڑی مالی شہ رگ کاٹ دی۔ پبلک کالجز میں بی ایس پروگرامز کے اجرا سے بھی یونیورسٹی کی فیس آمدن متاثر ہوئی۔ یوں ایک طرف آمدن سکڑتی گئی اور دوسری طرف اخراجات، خصوصاً تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ، بڑھتا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جامعہ کی آمدن اس کے لازمی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہو چکی ہے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جامعہ کے کل اخراجات کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشن پر مشتمل ہے، جو قانونی اور لازمی ادائیگیاں ہیں۔ انتظامیہ نے کفایت شعاری کے اقدامات کیے، نئی بھرتیوں کو محدود کیا، غیر تنخواہی اخراجات میں کمی کی، حتیٰ کہ اساتذہ و ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے فنڈ قائم کر کے ادارے کا بوجھ بانٹنے کی کوشش کی۔ مگر جب ساختی مسئلہ اپنی جگہ موجود ہو تو وقتی اقدامات مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتے۔
آج جو احتجاج ہو رہا ہے، وہ صرف تنخواہوں کے اضافے کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں، بلکہ ادارے کی بقا کا سوال بھی ہے۔ جب اساتذہ اور ملازمین کو ان کا حق بروقت نہیں ملتا تو اس کا براہِ راست اثر تدریسی ماحول پر پڑتا ہے۔ جب جامعہ بند ہوتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان طالب علم کا ہوتا ہے۔ اور جب طالب علم کا نقصان ہوتا ہے تو دراصل ریاست کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔
اگر اس بحران کا فوری اور سنجیدہ حل نہ نکالا گیا تو خدشہ ہے کہ تعلیمی تسلسل مزید متاثر ہوگا، تحقیق کا پہیہ رک جائے گا، اور نوجوانوں کا اعتماد ریاستی اداروں پر متزلزل ہوگا۔ یہ محض ایک ادارے کی مالی فائل نہیں، یہ آزاد کشمیر کے علمی وقار کا سوال ہے۔
ریاستی قیادت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم خرچ نہیں، سرمایہ کاری ہے۔ جامعہ آزاد کشمیر کو فوری مالی استحکام کی ضرورت ہے، ایک واضح اور پائیدار پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے، اور کالج و یونیورسٹی نظام کے درمیان واضح حد بندی کی ضرورت ہے تاکہ یونیورسٹیاں اپنے بنیادی کردار یعنی بی ایس، پوسٹ گریجویٹ اور تحقیقی تعلیم پر پوری توجہ دے سکیں۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، اجتماعی ذمہ داری کا ہے۔ حکومت، پالیسی ساز ادارے، سول سوسائٹی، اور ریاست کے باشعور طبقات کو آگے بڑھ کر اس بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ اگر جامعہ کمزور ہوگی تو ریاست کمزور ہوگی۔ اگر استاد غیر محفوظ ہوگا تو علم غیر محفوظ ہوگا۔ اور اگر علم غیر محفوظ ہوگا تو مستقبل بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
جامعہ آزاد کشمیر کو بچانا کسی ایک گروہ کا مطالبہ نہیں، یہ ریاست کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک واضح پیغام دیں: اعلیٰ تعلیم پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اساتذہ اور ملازمین کے جائز حقوق کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔ اور جامعہ کو مالی طور پر مستحکم کر کے اسے دوبارہ اس مقام پر لایا جائے گا جہاں سے وہ ریاست کی ترقی کا راستہ روشن کرتی رہی ہے۔
یہ صرف ایک ادارہ نہیں، یہ آزاد کشمیر کا علمی مستقبل ہے۔ اسے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔