ربجا کا سالانہ جنرل باڈی کا اجلاس، نئےجذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم
اسلام آباد ۔۔۔۔
راولپنڈی اسلام آباد بیورو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی سالانہ جنرل باڈی کا اجلاس نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی کاروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت آر یو جے کے جنرل سیکرٹری بشیر عثمانی نے حاصل کی۔اس کے بعد رضا کاظمی نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔
ربجا کی سالانہ فنانس رپورٹ حاجی عزیز نے پیش کی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جنرل سیکرٹری سید آصف علی ہمدانی نے ادا کیے۔ تقریب میں صدر، سیکرٹری نیشنل پریس کلب،صدر پی ایف یوجے افضل بٹ، صدر آر آئی یو جے آصف بشیرچوہدری،سینئر صحافیوں اور مختلف صحافتی تنظیموں کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ربجا کے صدر سردار شاہد حمید نے اپنے صدارتی خطاب میں 2سالہ کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔قراردادکے ذریعے ربجاباڈی کی مدت 2سال مقرر کردی گئی جس کی جنرل باڈی نے منظوری دے دی۔ سردار شاہد نے کہا کہ ربجا کے ممبران کے پی آئی ڈی مسائل اور ریکوری کی صورتحال بہتر بنانے کی ہرممکن کوشش کی، مجھے فخرہے کہ میں نے بطورصدر2سال ممبران کی ہرممکن مالی معاونت اور مشکلات کے حل کیلئے عملی اقدام اٹھائے اور میں پی آئی او مبشر حسن اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر توصیف جنجوا اور ان کی پوری ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پی آئی ڈی سے متعلقہ تمام مسائل کو حل کرنے میں ہماری بھرپور مدد کی ۔
بانی ربجاقربان ستی نے کہاکہ ہمیں اپنے ساتھی نعیم قریشی کے چلے جانے سے بڑاصدمہ ہوا،ان کا خلاپرنہیں ہوسکتا،انہوں نے کہا کہ نعیم قریشی نے اپنی پوری صحافتی زندگی میں ورکرز کے حقوق کیلئے جدوجہد کی، پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ ہو یا میڈیا ہاؤسز کے سامنے احتجاج نعیم قریشی ہر جگہ موجود ہوتا تھا۔آج کی اس تقریب میں ہم اس کی کمی کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔بانی ربجا قربان ستی نے ہیلتھ کارڈ،پلاٹس اور دیگر مسائل کو اجاگر کیا۔
تقریب سے قائدصحافت صدرپی ایف یو جے افضل بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرنٹ میڈیا آخری سانسیں لے رہا،ڈیجیٹل AIٹیکنالوجی کی تربیت وقت کی ضرورت ہے،پلاٹس کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے،ربجاکاکردارہمیشہ مثالی رہا ہے۔ افضل بٹ نے کہا کہ نیشنل پریس کلب، آرائی یوجے،پی ایف یوجے نے جب کسی مظاہرے یا احتجاج کی کال دی ربجا کے ساتھی ہمیشہ ہمارے شانہ بشانہ رہے۔ افضل بٹ نے آزادی صحافت کی جدوجہد میں ربجاکے کردار کو سراہا اور تمام ممبران کو خراج تحسین پیش کیا۔
صدراین پی سی اظہر جتوئی نے ربجاکی کامیاب جنرل باڈی پر مبارکباد دی اور ہرممکن تعاون کا یقین دلایا، صدرآرائی یوجے آصف بشیر چوہدری نے صحافیوں اورصحافت کو درپیش چیلنج سے آگاہ کیا۔ آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کی آواز کو دبانے کے لیے ہرکوشش کا ناکام بنانے کیلئے بڑی جدوجہدکرناہوگی اس کیلئے سب متحد ہوکر آگے آئیں۔
سابق صدرنیشنل پریس کلب انورضانے کہاکہ ربجاجڑواں شہروں کی بڑی فعال اور متحرک تنظیم ہے، ساتھی منظم ہوکر صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ جب بھی کوئی مظاہرہ ہو تمام ممبران اس میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ انورضا نے کہا کہ ہمیں اپنے حقوق کیلئے مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ربجا کی سالانہ فنانس رپورٹ حاجی عزیز نے پیش کی اور بتایا کہ کارڈزفیس کی مد میں 7500وصول ہوئے جبکہ اخراجات 48250 روپے ہوئے،ربجا2سالہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق 17 سال بعد پہلی بار ربجا کو باقاعدہ لیگل فریم میں لایا جا رہا ہے اس کا بینک اکاؤنٹ ہوگا تاکہ ضرورت کے وقت ممبران کی فلاح وبہبود کیلئے کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ پی آئی ڈی کے مسائل کے حل کیلئے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا ء اللہ تارڑ، سابق سیکرٹری انفارمیشن شاہیرہ شاہد اور ،مبشر حسن سے نہ صرف ملاقاتیں کیں بلکہ تحریری خطوط اور بذریعہ اشتہاری اپیل کی گئی جس کے نتیجے میں کافی حد تک بہتری آئی ۔اپریل2024 ء میں ربجا ممبران کے اعزاز میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پروقارعید ملن پارٹی کا اہتمام کیا گیا، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جس حد تک ممکن ہوسکا ممبران کی مالی معاونت کی گئی جبکہ راشن کی تقسیم کا تمام کام بھی رازداری کے ساتھ کیا گیا۔
سکروٹنی کمیٹی نے بھی بہت محنت سے اپنا کام کیا اور ایک صاف وشفاف لسٹ تیار کی گئی جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔ممبران کو صحت کی سہولیات کے پیش نظر رحمن فاؤنڈیشن کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تاکہ گردوں کے ڈائیلائسز کی شکایت کی صورت میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وقت پر علاج کی بہترین سہولت مہیا کی جاسکے۔اس کے علاوہ ممبران کے بچوں میں کتابیں، یونیفارم اور بیگ تقسیم کرنے کی تقریب نیشنل پریس کلب میں منعقد کی گئی جس کو تمام ممبران نے بہت سراہا جبکہ بہت سے ساتھیوں کی رازداری کے ساتھ مالی معاونت کی گئی،الحمد اللہ ہم نے اپنے ممبران کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے جس حد تک ممکن ہوا کام کیا۔
تقریب میں صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد اظہر جتوئی، جنرل سیکرٹری نیئر علی،فنانس سیکرٹری وقار عباسی،نائب صدر پریس کلب سحر اسلم،شاہ محمد،جاوید بھاگٹ،سابق صدور،انور رضا،علی رضا علوی، سردار حمید،طارق ورک،عامر سجاد سید،بلال ڈار،جاوید اقبال،جاوید اقبال، نثار احمد،رانا زاہد حسین،عابد عباسی،کے جے ایف صدر عرفان،جنرل سیکرٹری مقصود،سابق جنرل سیکرٹری عقیل انجم، فنانس سیکرٹری سردار عمران اعظم، اے پی پی یونین کے سابق صدر ملک خضر حیات، آر آئی یو جے کے صدر آصف بشیر چوہدری،جنرل سیکرٹری بشیر عثمانی،فنانس سیکرٹری آر آئی یو جے اظہار خان نیازی،گلزار خان، گورننگ باڈی نیشنل پریس کلب نوید شیخ،ماجد افسر،جعفر علی بلتی،فائزہ شاہ کاظمی،چیئرمین سرائیکی ایسوسی ایشن مجاہد بھٹی،روزنامہ دیہات کے چیف ایگزیکٹو اشتیاق عباسی،نائب صدور ربجا سردار نثار تبسم،محمد پرویز،اکرم کاشمیری،شمیم آرا، جوائنٹ سیکرٹریز،نوید اقبال ملک، اقر ء خالد،ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری جمیل خان، گورننگ باڈی ممبران ممریز اقبال، محمد امین،سید طاہر شاہ، طارق نصیر راؤ، محسن راؤ،سردار لیاقت خان،سردار فیاض،چوہدری شفیق، خلیل جنجوعہ،رانا فرح،محمد علی، عبد وہاب، نثار کیانی، ساجد چوہدری، راجہ جاوید، زاہد خان،راجہ کامران،قربان بلوچ،راو تقی، شوکت ستی، فوزیہ کلثوم،سردار ندیم، رضا عابد مصطفی،حمید خبیب،بابر مغل، خالد گردیزی،راجہ خالد،حنیف عابد، صائمہ بھٹی،اسد حمید راجہ، نصرت شاہ،مشرف کاظمی، عابد رضا کاظمی، طاہر کیانی،پروفیسر سعید،افتخار مشوانی،تنویر چانڈیو،کامران کھوکھر،ملک خالد ،راجہ کامران، فاروق، داؤد احمد،مقصود احمد،خوشنود خان،، و دیگر صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔