تحریر :- عزیر احمد غزالی امیر مہاجرین جموں کشمیر 1989

دی مائنڈ ڈاٹ پی کے
ہندوستان کے زیرِ قبضہ مقبوضہ جموں کشمیر کی تاریخ انتھک مزاحمت ، لازوال قربانیوں اور ہجرت کے درد سے عبارت ہے۔ 1989 کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں پیش آنے والے حالات و واقعات نے ہزاروں کشمیری خاندانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ یہ کشمیری خاندان جو آج بھی اپنے وطن کی آزادی ، شناخت اور حقِ خود ارادیت کے جذبے کے ساتھ زندہ ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ انہیں آج تک آزادی کے بیس کیمپ آزاد ریاست جموں کشمیر میں وہ سیاسی مقام اور نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی جس کے وہ بجا طور پر حق دار ہیں۔
آزاد جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی خود کو پورے ریاست کی نمائندہ قرار دیتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ 1989 کے مہاجرین جو اس جدوجہد کا ہراول دستہ اور متحرک حصہ ہیں انہیں اس آئین ساز اسمبلی میں واضح اور مؤثر نمائندگی کیوں حاصل نہیں؟ کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے کہ ایک بڑی متاثرہ آبادی جو ریاست کے سیاسی مستقبل کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کر چکی ہو یا کررہی ہو اسے سیاسی عمل میں مکمل طور پر مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہے ۔
مہاجرین 1989 کی نمائندگی صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ ایک تحریکی ضرورت ہے۔ ان مہاجرین نے بھارتی جبر، قابض فورسز کا تشدد ، سامراج کے بدترین مظالم اور غیر یقینی حالات کے باعث ہجرت کی۔ ان مہاجرین نے ایک عظیم مقصد کیلئے اپنے والدین ، گھر، زمینیں اور کئی صورتوں میں اپنے عزیز بھی کھوئے، مگر اپنے مؤقف اور نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان مہاجرین کو نظر انداز کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ اجتماعی شعور کی کمزوری کا واضح اظہار بھی ہے۔
آزاد ریاست جموں کشمیر میں زمینی حقائق مہاجرین کی محرومیوں کی شدت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ اس وقت آزاد ریاست کے مختلف اضلاع مظفرآباد، جہلم ویلی، باغ اور کوٹلی میں تقریباً سات ہزار کشمیری خاندان مختلف مہاجر بستیوں میں تنگ ، محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مظفرآباد، میرپور، ہزارہ ڈویژن، راولپنڈی، سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں مزید 3100 خاندان کرائے کے مکانات میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ تکلیف دہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ 36 برس گزرنے کے باوجود بھی مہاجرین آج بھی بنیادی سہولیات اور باوقار رہائش اور سیاسی نمائندگی سے محروم ہے۔
موجودہ وقت میں مہاجرین 1989 کی آبادی تقریباً 47 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے لگ بھگ 27 ہزار ووٹرز ہیں۔ یہ ایک بڑی سیاسی قوت ہونے کے باوجود بدقسمتی سے سیاسی طور پر منتشر ہیں ۔ گزشتہ تین انتخابات میں یہ مہاجرین ووٹ تو ڈال رہے ہیں، مگر ان کے ووٹ آزاد جموں کشمیر کے 14 مختلف انتخابی حلقوں میں تقسیم ہیں۔ اس تقسیم کے باعث کوئی ایک نمائندہ ان کا حقیقی ترجمان بن کر سامنے نہیں آتا، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ منتخب نمائندے، نہ وزراء اور نہ ہی حکومتیں ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی طرف توجہ دیتی ہیں۔
یہ مہاجرین تحریک آزادی کشمیر سے براہ راست منسلک رہے ہیں اور صف اول میں کھڑے ہو کر جدوجہد کا حصہ بنے ہیں۔ ان کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں، اور ان کی وابستگی آج بھی زندہ حقیقت ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے ان کی لازوال محبت و عقیدت سب سے بڑھ کر ہے ۔
مہاجرین کشمیر کی تکلیفوں کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان مہاجرین کے والدین، رشتہ دار اور عزیز و اقارب آج بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک طرف ہجرت کا دکھ اور دوسری طرف اپنے پیاروں کی مسلسل اذیت یہ دوہرا کرب ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں انہی مہاجرین سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی زمینیں، جائیدادیں اور گھر مسمار ، ضبط اور ان پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ کشمیری شناخت کو مٹانے کی ایک منظم ہندوستانی سازش بھی ہیں۔
ایسے حالات میں مہاجرین 1989 کی آزاد ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہیں محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے ایک مستقل اور با اختیار سیاسی شناخت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جائیں، علیحدہ انتخابی حلقے قائم کیے جائیں یا آئینی سطح پر واضح تبدیلی اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
اگر مہاجرین کو آئین ساز اسمبلی میں مؤثر سیاسی نمائندگی ملتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے مسائل ایوانوں تک پہنچا سکیں گے بلکہ اپنی نئی نسل کے لیے بہتر تعلیم، روزگار اور مستقبل کے مواقع بھی یقینی بنا سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی موجودگی مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ آمدہ انتخابات 2026 میں آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت مصلحتوں سے بالاتر ہو کر انصاف، برابری اور تحریکی ضرورتوں کے پیش نظر مہاجرین جموں کشمیر کے لیے ایک نشست جموں اور ایک نشست ویلی کی مختص کی جائے ۔ مہاجرین جموں کشمیر 1989 کو ان کا جائز سیاسی مقام دینا نہ صرف ایک آئینی ضرورت ہے بلکہ ایک بہترین سماجی انصاف ہوگا۔
اگر ہم سب آزاد ریاست جموں کشمیر میں واقعی ایک منصفانہ اور نمائندہ جمہوری نظام چاہتے ہیں تو مہاجرین کشمیر 1989 کو ان کا سیاسی حق دینا ہوگا جنہوں نے تاریخ کے مشکل ترین دور میں اپنی آزادی ، حق خودارادیت اور انصاف کیلئے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ یہی انصاف ہے، یہی جمہوریت کا تقاضا ہے اور یہی ریاست جموں کشمیر کا ایک باوقار اور مضبوط مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مہاجرین جموں کشمیر 1989 کی ورکنگ کمیٹی گزشتہ اڑھائی برسوں سے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق مسائل کے حل کیلئے کوششوں کو بروئے کار لائے ہوئے ہے ۔ مہاجرین یہ امید کرتے ہیں کہ آمدہ انتخابات 2026 سے پہلے مہاجرین کے لیے دو نشستوں کو مختص کیا جائے گا۔ تاکہ مہاجرین کے نمائندگان باقاعدہ ووٹ حاصل کرکے جمہوری انداز میں ایوان کا حصّہ بن سکے۔ ۔۔۔