یہ زنجیر آہستہ آہستہ دریا کی طرف بڑھی۔ آخرکار آخری شخص نے جھک کر کتے اور اس کے مالک تک ہاتھ پہنچایا۔
مقصود منتظر
سردیوں کی ایک ٹھنڈی صبح تھی۔ قازقستان کے سب سے بڑے شہرAlmaty کی فضا میں خنکی رچی ہوئی تھی اور Ulken River کے کنارے معمول کے مطابق لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ چند لمحوں بعد ایک ایسا واقعہ پیش آنے والا ہے جو انسانیت کی روشن مثال بن جائے گا۔
اچانک ایک کتا پھسل کر دریا میں جا گرا۔ پانی ٹھنڈا تھا اور کنارے اتنے ڈھلوان کہ وہ بار بار کوشش کے باوجود باہر نہ نکل سکا۔ اس کا مالک یہ منظر دیکھ کر بے چین ہوگیا۔ وہ فوراً دریا میں اترا تاکہ اپنے وفادار ساتھی کو بچا سکے، مگر قسمت نے اس کا ساتھ نہ دیا اور وہ خود بھی پھنس گیا۔اب صورتحال مزید سنگین ہوچکی تھی۔ کتا اور اس کا مالک دونوں بے بسی کے عالم میں مدد کے منتظر تھے۔
اسی دوران وہاں موجود لوگوں نے تماشائی بننے کے بجائے انسانیت کا ثبوت دیا۔ ایک شخص نے آگے بڑھ کر ہاتھ بڑھایا، پھر دوسرے نے اس کا ہاتھ تھاما، اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بن گئی۔ ہر شخص نے دوسرے کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ سب نے ایک دوسرے پر بھروسہ کیا اور آدمی اور کتنے کو بچا کر تاریخ میں اپنا نام روشن کردیا ۔
یہ زنجیر آہستہ آہستہ دریا کی طرف بڑھی۔ آخرکار آخری شخص نے جھک کر کتے اور اس کے مالک تک ہاتھ پہنچایا۔ چند لمحوں کی جدوجہد کے بعد دونوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ جب وہ محفوظ کنارے پر آئے تو ہر چہرے پر سکون اور خوشی تھی۔ کوئی ایک ہیرو نہیں تھا۔ یہ سب کی مشترکہ کامیابی تھی۔
یہ منظر کیمرے میں قید ہوگیا اور جلد ہی دنیا بھر میں پھیل گیا۔ لاکھوں لوگوں نے اس واقعے کو دیکھا اور انسانیت کے اس جذبے کو سراہا۔
دی ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کی رپورٹ کے مطابق آج دس سال بعد اس مقام کے قریب ایک خوبصورت یادگار نصب کی گئی۔ یہ مجسمہ ان لوگوں کی زنجیر کو ظاہر کرتا ہے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے ہیں۔ مدد، اتحاد اور امید کی علامت کے طور پر۔ یہ مجسمہ انسان پر بسنے والے انسانوں کو ہمیشہ یہ یاد دلاتا رہےگا کہ جب انسان ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں تو مشکل سے مشکل وقت بھی آسان ہوجاتا ہے۔ آج سے ساڑھے سو سال پہلے اللہ پاک نے انسان کو اپنی کتاب قرآن پاک کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪-وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ-وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ
ترجمہ : اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اوراللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔