ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ پاکستان کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی کٹوتیاں کی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ اثر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) پر پڑا ہے، جہاں مبینہ طور پر 39 کروڑ روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں میں فنڈز کی مبینہ کٹوتیوں کے باعث صحت کے شعبے میں مشکلات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ پاکستان کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی کٹوتیاں کی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ اثر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) پر پڑا ہے، جہاں مبینہ طور پر 39 کروڑ روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولی کلینک اسپتال اسلام آباد، نرم اسپتال اور فیڈرل گورنمنٹ اسپتال کے فنڈز سے بھی بڑی رقوم منہا کی گئی ہیں، جس کے باعث ادویات کی خریداری، مینٹیننس اور دیگر ضروری شعبہ جات متاثر ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزارت صحت کو خط لکھا ہے اور فنڈز کی کٹوتی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسپتالوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ کفایت شعاری اقدامات سے مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔
پمز انتظامیہ کے مطابق ادارے کو پہلے ہی مالی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ فنڈز میں مزید کمی کے باعث ادویات، سرجری کے آلات اور دیگر ضروری سامان کی دستیابی متاثر ہونے لگی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں مفت ادویات کی فراہمی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بعض اسپتالوں میں ایندھن، جنریٹر اور ایمبولینس سروسز کے لیے درکار وسائل کی کمی بھی سامنے آ رہی ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں خدمات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق معاملہ اب متعلقہ وزارتوں کے درمیان غور و خوض کے مرحلے میں ہے، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے صحت کے شعبے کو کفایت شعاری اقدامات سے استثنا دینے کی تجویز بھی دی ہے۔