ایران کے سفیر کی اسلام آباد میں گول میز کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔۔دی مائنڈڈاٹ پی کے
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیررضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور ہوئے وزیرا عظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی ثالثی کی کوششیں قابل ستائش ہیں، اینٹی ایشو کو ایک تنازعہ بنا دیا جو اب بھی جاری ہے
آئی آر ایس میں ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ جنگ کے علاقے پر نتائیج اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر گول میز کانفرنس ہوئی ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نےایران امریکا مذاکرات میں ثالث کے کردار پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا حالیہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے۔ ایران کسی سے بھی جارحیت کے حق میں نہیں،ایران نے پر امن مقاصد کے لیے اینٹی صلاحیت کے حصول پر توجہ دی ،کوئی ملک یہ ثبوت نہیں دے سکا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے،
رضا امیری نے کہا امریکی ایران مذاکرات کے دور ایٹمی مسئلے پر کچھ نکات پر اتفاق ہوا ،یہ مذاکرات اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے تھے،مذاکرات کے پانچ دور ہوئے، اس دوران امریکہ نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا ،ہمیں امریکہ پر اعتماد نہیں کیونکہ امریکہ صہیونیوں اور نیتن یاہو کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔۔
ایرانی سفیر نے کہا سنتالیس سال سے ایران انقلاب میں ہے ،اتنے عرصے سے ہم امریکہ اور صیہونی طاقتوں کے دباؤ اور زیادتیوں کا شکار ہیں ، یہ طاقتیں اپنی کوششوں میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکیں،آدھی صدی سے تنازعات جاری ہیں اور گہرے سے گہرے ہو رہے ہیں، ایران خطے میں ایک حساس پوزیشن پر موجود ہے۔ انقلاب کے بعد ہم نے امریکہ کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی حالیہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے۔ یہ ایک دعوی ہے کہ ایران مشرقی وسطی میں بالا دستی چاہتا ہے ، ایران کسی سے بھی جارحیت کے حق میں نہیں
انہوں نے کہا ایٹمی ایشو کو ایک تنازعہ بنا دیا جو اب بھی جاری ہےایران نے پر امن مقاصد کے لیے اینٹی صلاحیت کے حصول پر توجہ دی ، کوئی ملک یہ ثبوت نہیں دے سکا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہےآئی اے ایس اے بھی پندرہ مرتبہ اپنی رپورٹ دی چکی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا ، اسرائیل مشرقی وسطی میں اپنی بالا دستی چاہتا ہے، امریکہ نے بھی ہمشیہ صہیونیوں کی حمایت کی اسرائیل امریکہ کی مدد سے ہمیشہ ہمارے خلاف کی کوششوں میں مصروف رہا،،