Blog

اسلام آباد ۔۔۔

حریت رہنما اور فرینڈز آف کشمیر نامی تنظیم کے وائس چیئرمین عبدالحمید لون نے آزاد کشمیر کی ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را ، ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کررہی ہے ۔ را پاکستان اور آزاد کشمیر  کے اندر کشمیری عوام کو اپنے مقاصد کیلئے حصول کیلئے بھاری رقوم کی آفر کررہی ہیں ؟

کشمیری رہنما عبدالحمید لون کی پوڈ کاسٹ میں گفتگو

یہ انکشافات انہوں نے کشمیر ڈیجیٹل نامی پلیٹ فارم پر ایک پوڈ کاسٹ میں کیا ہے ۔حریت رہنما عبدالحمد لون کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل براستہ دبئی امریکہ کے دور ے پر گیا وہاں مجھے ایک دوست نے کھانے پر دعوت دی اور اس دعوت کے دوران میری کچھ لوگوں سے ملاقات ہوگئی ۔

دوران ملاقات ایک صاحب بھی موجود تھے جنہیں میں جانتا نہیں تھا اور شکل سے پاکستانی تھا نہ عربی اور نہ ہی کشمیری لگ رہا تھا ۔ اور میں نے اس سے تعارف کروانا بھی گوارہ نہیں کیا۔

عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ اچانک اس نے مجھ سے سوال کردیا کہ آپ عبدالحمید لون ہیں اور آپ ہیومن رائٹس کے بڑے ایکٹویسٹ ہیں  اور آپ تو بڑے ڈائنامک لیڈر ہیں ۔ میں حیران تھا کہ اسےمیرا کیسے تعارف ہے ۔ میں نے پھر اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو اس کا جواب سن کر میں حیران رہ گیا۔

اس شخص کا کہنا تھا کہ میں آپ کا وائسرائے ہوں ۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے اس نےجواب دیا کہ وہ سرینگرمیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا کمشنر ہے ۔ میں تو پہلے چونک گیا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا واقعی ایک را کا افسر مجھ سے مخاطب ہے ۔ پہلے تو میں نے مذاق سمجھا لیکن جوں جوں وہ باتیں کرتا چلا گیا اور مجھ پر حقیقت کھلتی گئی تو معلوم ہوا کہ واقعی یہ را کا ہی افسر ہے ۔

عبدالحمید لون نےمزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرا تمام بائیوڈیٹا جانتا تھا اور اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کہاں رہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں ؟ البتہ یہ ہے کہ میں آپ کا ویل وشر ہوں ۔۔ آپ پوری دنیا میں آئیں ، گھومیں  ، پھریں ،گھربنائیں ، پراپرٹی بنائیں ۔ ہم آپ کو ہر قسم کا تعاون دینے کیلئے تیار ہیں ۔ میرے سوال پر کہ آپ اتنے مہربان کیوں ہیں ؟ تو اس را افسر کا کہنا تھا کہ آپ کا پاکستان کے اندر ایک بڑا نفلوئنس ہے آپ وہاں پر کافی بااثر ہیں ، صحافیوں سے اٹھنا بیٹھنا، سیاسی اور سماجی سطح پر آپ کے کردار بڑا اہم ہے ۔

پاکستان کے اندر موجود دنیا بھر کے ڈپلومیٹس تک آپ کی رسائی بھی ہے اور آپ کو مختلف ٹی وی چینل پر بھی ہم کشمیریوں کا دفاع کرتے دیکھتے آئے ہیں ۔ تو آپ نے اس سب سے کیا حاصل کیا؟ اس کے جواب میں میں نے کہا کہ میں نے بہت کچھ حاصل کیا ، میں عزت ، شہرت پائی ، میں اپنے کام سے مطمئن ہوں، میرا ضمیر مطمئن ہے مجھے اور کیا چاہیے ۔ اور انشاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب ہم اپنے گول کو اچیو کرینگے ۔

را افسر نے ایک دم پینترا بدلا تو کہنے لگا کہ تو سب کیسے ممکن ہے ۔بڑے آئے بڑے گئے ، ان تمام لوگوں کے نام اس نے گنوائے لیکن ہم آپ کو ایک آفر کررہے ہیں اور یہ آفر آپ کو آپ کی نسلوں کو سدھار جائے گی اور آپ کی نسلیں اس آفر پر سدھر جائیں گی تو آپ ہمارے ساتھ کام کیوں نہیں کرتے ۔

اس دوران اس را افسر نے عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے استفسار کیا کہ کیا آپ شوکت نواز میر کو جانتے ہیں ۔ میں نے کہا میں تو انہیں نہیں جانتا ۔البتہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پر دیکھتا ہوں مگر میری شوکت نواز میر سے بالمشافہ کوئی ملاقات نہیں ہے ۔

تو اس’’ را‘‘ افسرنے مجھ سے کہا کہ کیا آپ عوامی ایکشن کمیٹی تک پیسے پہنچا سکتے ہیں ، اگر آپ ایک کروڑ روپے عوامی ایکشن کمیٹی تک پہنچاتے ہیں تو بیس لاکھ روپے آپ کو ہم دینے کیلئے تیار ہیں ۔یہ بھارتی کرنسی میں جبکہ پاکستانی 60 لاکھ روپے بنتے ہیں ۔

عبدالحمید لون نے مزید انکشاف کیا کہ مذکورہ را افسر نے مجھے آفر دی کہ اگر آپ گلگت بلتستان میں اہل تشیع کے علماء کرام تک اتنی ہی رقوم اور پیغام پہنچا دیں تو ہم آپ کو مالا مال کردیں گے ۔

عبدالحمید لون کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی را افسر نے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے سیکٹر کمانڈرز کا بھی نام لیکر مجھ سے استفسار کیا کہ کیا آپ انہیں جانتے ہیں ۔ کیا مظفرآباد میں موجود سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر فائق کو بھی جانتے ہیں ۔

میں نے جواب دیا کہ سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر فائق کو تو نہیں جانتا البتہ ان کا نام سناہوا ہے ۔ تاہم ان کے حوالے سے تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔

اس را افسر کا کہنا تھا کہ سیکٹر کمانڈر مظفرآباد بریگیڈیئر فائق کے حوالے سے ہم چاہتے ہیں کہ انہیں بدنام کرنے کیلئے وہاں کے انفلوئنسرز ، یوٹیوبرز ، سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کو ایکٹو کیا جائے ۔اگر آپ یہ کام کردیتے ہیں تو آپ کو اتنا مال ومال کردیں گے کہ آپ کی نسلیں سدھر جائیں گی۔

اس افسر کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو کوئی ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو ہم آپ کو ریسکیو کریں گے ۔ہم آپ کو جموں وکشمیر میں اہم سیٹ پر بیٹھا سکتے ہیں ، ہم آپ کو ایم ایل اے بھی بنواسکتے ہیں ۔ میں نے اس کی یہ سب باتیں سنیں تو میں نے اسے جواب دیا کہ اگر ہم نے یہ سب کچھ کرنا ہوتا تو ہم لاکھوں نوجوانوں ، بچوں، مائوں ، بیٹیوں کی قربانی نہ دیتے ۔ ہزاروں نوجوان بھارتی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ۔ ہم آپ کی اس دولت پر تھوکتے بھی نہیں ہیں۔

عبدالحمید لون کا مزید کہنا تھا کہ اس را افسر کو میں نے کھری کھری سنائیں کہ کشمیر کی آزادی ہمار مقدس مقصد ہے اور ہم کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ ہمارا جینا مرنا پاکستان کیساتھ ہے اور تم ہمیں خریدنے کی کوشش کررہے ہو، ہمارے ہزاروں نوجوان مشکلات برداشت کر رہے ہیں مگر اس وقت تک وہ ڈٹے ہوئے ہیں ۔

عبدالحمید لون کا مزید کہنا تھا کہ آپ ہمیں نہیں توڑ سکتے ، آپ سید علی گیلانی کو توڑ سکے ۔ ہرایک کشمیری سید علی گیلانی کے نقش قدم پر چل رہا ہے ۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کی بات کرنا ہر شہری کا قانونی اور آئینی حق ہے مگر اس کی آڑ میں غیر قانونی اور ریاست دشمن مطالبات سامنے لانا یہ حقوق نہیں بلکہ انتشار ہے ۔عوامی ایکشن کمیٹی کشمیریوں کی نمائندہ جماعت نہیں بلکہ چند تاجروں کا جمگھٹا ہے جو صرف انتشار پھیلا رہا ہے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ یورپ سمیت دنیا بھر میں کشمیری لوگ رہائش پذیر ہیں ۔ ابراڈ اوورسیز میں نام نہاد نیشنلسٹ موجود ہیں ۔ شوکت کشمیری ، شمیم چوہدری ، طارق لالہ یہ تو بھارتی ایجنسیوں کے آلہ کار ہیں ۔ یہ تو ان سے ڈالر لیتے ہیں ۔ اور وہ عوامی ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کرتے ہیں ، اس سارے پیسے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ہمارے قومی اداروں کو چاہیے کہ ان نیشنلسٹوں تحقیقات کریں کہ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے اور کون کیوں دے رہا ہے ۔

ایک عام تاجر جو بڑی مشکل سے دیہاڑی لگاتا ہے اس کی اتنی بڑی پراپرٹی کیسے بن گئی اور اس کا سورس آف انکم کیا ہے ۔؟اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔ ان کے پاس اتنی بڑی پراڈو ، گاڑیاں ، کوٹھیاں کہاں سے بنائیں ۔ ؟ ہمارے سکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں حالات خراب ہونے سے قبل اس معاملے کو باریک بینی سے دیکھیں ۔