پیٹرول بحران یا جدت کا نیا انداز؟ بینک ملازم گھوڑے پر دفتر پہنچ گیا
بھارت میں پیٹرول کی قلت نے جہاں شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے، وہیں کچھ لوگوں نے اس بحران کا انوکھا حل بھی تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دیواس میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں ایک بینک ملازم نے موٹرسائیکل چھوڑ کر گھوڑے پر دفتر جانا زیادہ مناسب سمجھا۔
یہ منفرد کردار گوپال ٹھاکر ہیں، جو ایک نجی بینک میں کلیکشن ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ عام دنوں میں وہ موٹرسائیکل کے ذریعے اپنے دفتر جاتے ہیں، لیکن پیٹرول پمپس پر لمبی قطاروں اور ایندھن کی کمی نے انہیں اپنا معمول بدلنے پر مجبور کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق جب پیٹرول پمپس پر رش حد سے بڑھ گیا اور کئی جگہوں پر ایندھن ختم ہو گیا تو گوپال ٹھاکر نے ایک غیر روایتی مگر مؤثر فیصلہ کیا۔ انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر تقریباً تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور وقت پر اپنے دفتر پہنچ گئے۔
جب وہ گھوڑے پر سوار ہو کر دفتر کے احاطے میں داخل ہوئے تو یہ منظر دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ راہگیروں نے فوراً موبائل فون نکال کر ویڈیوز بنائیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان کی یہ سواری نہ صرف توجہ کا مرکز بنی بلکہ پیٹرول بحران پر ایک دلچسپ تبصرہ بھی بن گئی۔
یہ واقعہ ایک بڑے سوال کو بھی جنم دے رہا ہے کہ اگر عالمی سطح پر جنگوں اور بحرانوں کے باعث پیٹرول کی قلت بڑھتی رہی تو کیا لوگ ایک بار پھر پرانے ذرائع نقل و حمل جیسے سائیکل یا جانوروں کا استعمال شروع کر دیں گے؟
فی الحال تو گوپال ٹھاکر نے اپنی حاضر دماغی سے نہ صرف وقت پر دفتر پہنچ کر حاضری یقینی بنائی بلکہ لوگوں کو مسکرانے کا ایک نیا موقع بھی فراہم کر دیا۔