اسرائیلی فوجیوں کی ہمت جواب دینے لگی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایال زمیر کی جانب سے اسرائیلی کابینہ کو دی گئی ایک خفیہ بریفنگ کی مبینہ ریکارڈنگ لیک ہوگئی ہے۔ اس لیک میں اسرائیلی فوج کی موجودہ جنگی صلاحیت اور مورال سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
لیک ہونے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے سربراہ نے واضح طور پر کہا کہ طویل عرصے سے جاری جنگ نے فوج پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے اور اب یہ اپنی حدوں کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف ریزرو فورسز مزید مؤثر انداز میں جنگ جاری رکھنے کے قابل نہیں رہیں گی بلکہ وہ وقت بھی دور نہیں جب اسرائیلی فوج معمول کے سیکیورٹی فرائض انجام دینے میں بھی مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ ان کے مطابق موجودہ حالات “ڈرامائی” نوعیت اختیار کر چکے ہیں اور فوری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں کو عارضی طور پر مزید دس دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے بعض حلقے سفارتی موقع دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر اپنے بیان میں ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت دباؤ میں ہے اور مذاکرات کے لیے بے چین دکھائی دیتی ہے، تاہم وہ عوامی سطح پر مختلف مؤقف اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے بروقت سنجیدہ فیصلہ نہ کیا تو نتائج اس کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خطے بھر میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث امریکی افواج کو غیر معمولی اقدامات کرنا پڑے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو روایتی فوجی اڈوں سے ہٹا کر ہوٹلوں اور دیگر عارضی مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ جنگی کارروائیاں جزوی طور پر ریموٹ انداز میں جاری رکھی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے امریکی جنگی تیاریوں اور حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ایران نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے نئے ٹھکانوں کی نشاندہی کریں، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اس تمام صورتحال کے درمیان پاکستان نے فعال سفارتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف مختلف ممالک کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور خطے میں امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کر رہا ہے۔
ادھر امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایک پندرہ نکاتی فریم ورک تیار کیا ہے جسے پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی رابطوں میں مثبت اشارے ملے ہیں اور ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، تاہم یورینیم افزودگی کے معاملے پر اس کا مؤقف بدستور سخت ہے۔
موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں فوجی دباؤ، سفارتی کوششیں اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ طے ہوگا کہ خطہ مزید تصادم کی طرف بڑھتا ہے یا سفارتکاری کے ذریعے کسی ممکنہ حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔