کیا پاکستان میں بھی انڈیا جیسی صورتحال پیدا ہونے والی ہے
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل سے متعلق ایک نیا تنازع سامنے آگیا ہے جہاں آئل ٹینکر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں فیول سپلائی روک دی جائے گی۔
ایسوسی ایشن کے صدر عابد اللہ آفریدی نے اس حوالے سے سیکریٹری پیٹرولیم کو ایک باقاعدہ خط ارسال کیا ہے، جس میں وائٹ پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق وائٹ پائپ لائن کا حصہ 45 فیصد جبکہ آئل ٹینکرز کا 55 فیصد مقرر تھا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اوگرا اور وزارت پیٹرولیم کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے برعکس اب اچانک وائٹ پائپ لائن کا کوٹہ بڑھا کر 70 فیصد کر دیا گیا ہے، جو کہ نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس فیصلے سے آئل ٹینکرز کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچے گا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ اس اہم فیصلے سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جو کہ شفافیت کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وائٹ پائپ لائن کے کوٹے میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے، آئل ٹینکرز کے لیے پہلے سے طے شدہ حصہ بحال کیا جائے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر کرایوں میں بھی فوری اضافہ کیا جائے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو وہ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بند کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔