اسلام آباد ۔۔۔
ستائیس ویں آئینی ترمیم نے شہر اقتدار کا سیاسی موسم گرم کردیا ہے ۔ اتوار کوچھٹی کے باوجود سینیٹ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آئینی ترمیم پر آج بھی گرما گرم بحث ہوئی۔
چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی اجلاس کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا، جس میں 27ویں ترمیم پر خوب گرما گرم بحث ہوئی ۔۔ اپوزیشن اور حکومت نے ایک د دوسرے کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک معاہدہ ہے، جس کی اپنی ایک ”روح“ ہے۔جب آپ آئین میں کوئی تبدیلی کرتے ہیں تو یہ ایسے ہے جیسے کسی عمارت کی بنیاد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں، اور اگر کوئی غلطی ہو جائے تو پوری عمارت منہدم ہو سکتی ہے۔“انہوں نے خبردار کیا، ”اگر آپ آئین کے پانچ ستونوں کے توازن میں معمولی سی تبدیلی بھی کرتے ہیں تو پورا آئین ہل سکتا ہے اور بڑے انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔“

سینیٹر اعظم سواتی نے الزام لگایا کہ ہم آئین اور قانون کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کرنے جا رہے ہیں، یہ کالا بل ہے، یہ بل عجلت میں بنا ہے ، یہ قومی مفاد میں نہیں۔ عدلیہ کا جنازہ نکل رہا ہے، ہم اب کہاں داد رسی کے لیے جائیں گے۔
سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس آئینی ترمیم کی کس بات کی اتنی جلدی ہے،کیا بحث ضروری نہیں۔ ایسے موقع پر اپوزیشن لیڈر نہیں ، یہ کس جمہوریت کی نشاندہی کرتا ہے۔۔
حکومتی سینیٹر پرویز رشید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر نے تصویر کا وہ رخ دیکھایا جو انھیں پسند ہے۔۔تصویر کو وہ رخ نہیں دیکھایا جس نے عدلیہ کو پارٹی کا آلہ کار میں بدلنے کی کوشش کی۔۔انھوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترمیم کے صرف ایک نقطے پر اج اپوزیشن کی دو تقاریر ہوئیں جس کا تعلق عدلیہ سے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن ارکان نے ترمیم کے باقی نکات کو تسلیم کر لیا ہے
سینیٹر افنان اللہ نے بھی اپوزیشن پر خوب لفظوں کی گولہ باری کی۔ آئینی ترمیم کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم سے پارلیمان مضبوط ہوئی۔۔
سینیٹر دنیش کمار نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی ترمیم لائیں کہ غیر مسلم بھی صدر پاکستان اور وزیراعظم بن سکے۔ ایسی ترامیم ہونی چاہیے کہ سینیٹر وزیراعظم بن سکے۔ ترامیم لائیں کہ بجٹ بھی سینیٹ سے منظور کرایا جائے۔
انہوں نے کہا ہےکہ اقلیتوں کو کیوں دیوار سے لگایا جاتا ہے میں ہندو ہوں مجھے کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ میں بھی جا کر داتا دربار اور سہیون شریف جاتا ہوں