امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹرطارق سلیم
اسلام آباد ۔۔۔
امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹرطارق سلیم نے کہا ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف 15جنوری سے ریفرنڈم کا آغاز ہوگا،جس کے لیے پنجاب بھر کے تمام اضلاع کے اہم مقامات سمیت گلی، محلوں، چوکوں، چوراہوں، مارکیٹیوں، تعلیمی اداروں میں کیمپ لگائے جائیں گے عوام الناس کی سہولت اور شفاف رائے دہی کے لیے مرکز اور اضلاع کی سطح پر آزاد خود مختار ریفرنڈم کمیشن تشکیل دیے جا چکے ہیں،
انہوں نے کہاریفرنڈم میں صوبہ کے کروڑوں لوگوں سے پنجاب کے بلدیاتی قانون پر رائے لی جائے گی، پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے، عوامی مسائل کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بلدیاتی اداروں کو مکمل مالی، انتظامی اور سیاسی خودمختاری نہیں دی جاتی، ان خیالات کا اظہار انھوں نے چار روزہ ریفرنڈم کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔
ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے، جماعت اسلامی اس قانون کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی اورحکومت کو اسے واپس لینے پرمجبورکردیں گے، اس قانون کے ذریعے انتظامی، مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جسکی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔
انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی کو بلدیاتی اداروں پر مسلط کرنے کا عمل عوامی خدمت کے عمل کو متاثر اور شفافیت کو کمزور کرتا ہے،آئین کے مطابق اختیارات نچلی سطح تک منتخب نمائندوں کو منتقل کرنا لازم ہے، لیکن موجودہ قانون اختیارات کی منتقلی کے بجائے اختیارات پر قبضے کی کوشش ہے،ڈاکٹرطارق سلیم نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی ایکٹ میں فوری ترمیم کی جائے، میئر اور چیئرمینوں کے براہِ راست انتخابات کو بحال رکھا جائے اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا مکمل اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہو۔ بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دے کر صوبہ بھر میں بااختیار، شفاف اور فعال مقامی حکومتوں کا قیام یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور اختیارات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکیں۔