ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ کے ٹرائل کورٹ سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری معطل
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے سخت سوالات اٹھا دیے، جج افضل مجوکہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں .
انہیں کیوں گرفتار کر کے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر عدالت کے سامنے پیش ہوئے تاہم ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہ ہو سکے، جس پر جج افضل مجوکہ نے پولیس کے رویے پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو صبح دس بجے ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کا حکم دیا .
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو بھی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت جاری کی، عدالت نے واضح کیا کہ ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر دس بجے عدالت میں حاضر ہوں، جس کے بعد عدالت نے سماعت میں دس بجے تک کا وقفہ کر دیا۔