تحریر ۔۔ مقصود منتظر

لو جی ۔۔۔اے آر وائی کے معروف ٹی وی پروگرام سرعام کے میزبان اینکر اقرارالحسن نے بھی سیاسی پارٹی کا اعلان کردیا ۔ ان کی پارٹی کا نام عوام راج تحریک (آرٹ) ہے۔ اقرار نے لاہور پریس کلب میں عوام راج تحریک کے پرچم کی نقاب کشائی کی اور منشور سےبھی میڈیا کو آگاہ کردیا ۔ اس موقعہ پر اقرارالحسن کا کہنا تھا کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر قسم کھاتا ہوں ساری زندگی کوئی سرکاری یا سیاسی عہدہ نہیں لوں گا، کچھ بھی ہو جائے کوئی عہدہ نہیں لوں گا۔
ہماری طرف سے جناب کو نئی پارٹی ، نیا سفر اور نیا مشن مبارک ہو۔ جمہوری ملکوں میں سیاسی پارٹی کا قیام ہمیشہ خوش آئندہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے عوام کو متبادل امیدوارمیسر آتے ہیں اور پرانے لوگوں کو بھی تھوڑا احساس ضرور ہوجاتا ہے کہ اب انہیں عوام کیلئے کچھ کرنا پڑے گا ورنہ لوگ ان کا بوریا بستر گول کردیں گے۔

عمومی طور پر کسی بھی معاشرے میں نئی سیاسی پارٹی کا قیام دراصل پرانی پارٹیوں اور بار بار آزمائے ہوئے حکمرانوں سے بے زاری کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ پرانے یا ناکام سسٹم کیخلاف علم بغاوت بھی ہے لیکن بانی عوام راج تحریک جناب اقرارالحسن کی میڈیا ٹاک سن کریہ کہنا بے حد آسان ہے کہ ان کا ہدف موجودہ حکمران جماعتیں نہیں ، نہ ہی موجودہ سسٹم بلکہ صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان ہے۔
اقرارالحسن نے پارٹی کا اعلان کرنے کے بعد میڈیا ٹاک کے دوران بآوازبلند عمران خان کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جناب نے کہا ہے کہ وہ (عمران خان) کہتے ہیں کچھ جنرلز اچھے ہوتے ہیں اور کچھ برے ،ساری بھیڑاور مجمع ان کے پیچھے ہیں ،وہ دن کو رات کہتاہے ، سب کہتے ہیں رات ہیں وہ رات کو دن کہتا ہے تو سب کہتے ہیں دن ہے ۔ ایسے میں کیا ہم رعایا کے طور پر ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں ۔کیا کوئی عمران خان کے فیصلے سے اختلاف کرسکتا ہے، وہ ملک میں جمہوریت تو چاہتا ہے لیکن پارٹی میں نہیں۔ آپ (عمران خان) کو ملک میں آئین چاہیے لیکن پارٹی میں نہیں ۔ یعنی تحریک انصاف عمران خان کی دکان ہے ۔ سیاسی جماعت کسی کی دکان نہیں ہوتی ۔
گویا پارٹی کی لانچنگ کی پہلی سپیچ میں شعلہ بیان اقرار کے تر کش کے تیر ایک ایک کرکے عمران خان کو ہی نشانہ بنارہے تھے ۔ حالانکہ ٹارگٹ لائن میں نواز شریف ، آصف زرداری ، مولانا فضل الرحمان اور دیگر بھی تھے لیکن مجال ہے جناب والا نے ایک بھی تیر ادھر ادھر پھنکنے کی کوشش بھی کی ہو ۔ البتہ اقرار الحسن نے یہ ضرور کہا ہے کہ نواز شریف اور زرداری صاحب کے فیصلوں سے بھی کوئی انکار نہیں کرتا ۔

لفظوں کے جادو گر، تقریر کے شاہ سوار اور انداز بیان کے ماہر بانی عوام راج پارٹی ملک کی سب پارٹیوں سے واقف ہیں ، ان پارٹی کے بانیوں اور بقول ان دکانوں کے مالکوں کی بھی بھرپور انفارمیشن رکھتے ہیں لیکن میڈیا ٹاک کے دوران اقرار نے جونہی ان پرانی دکانوں کی طرف رخ کیا تو ان کے پروں کے جلنے کی بُو آنے لگی ۔ سرعام پروگرام میں سر سے پاوں تک ایک ایک بال گننے والے اینکر پہلی سپیچ میں سب سیاسی دکانیں گننا کیوں بھول گئے ؟ بھلا کیوں ان کا ہدف صرف اور صرف قیدی نمبرآٹھ سو چار رہا ؟ یہ تو وہی بتا سکتے ہیں لیکن یہ سپیچ سننے والوں کو ضرور مایوسی ہوئی ہوگی بالخصوص اس رعایا کو جو ملک میں آزاد سیاسی نظام کے خواہاں ہیں ۔بظاہر ان کا پہلا خطاب مجموعی طور پر سنجیدہ اور سسٹم کیخلاف اعلان جنگ ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے صرف تحریک انصاف کیخلاف طبل جنگ بجادیا ۔ جو کہ سراسر نا انصافی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اقرارالحسن پچھلے چار پانچ سال سے عمران خان کے سخت ناقد رہے ہیں ، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر وہ کھل کر بانی پی ٹی آئی پر وار کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اقرار کو تحریک انصاف کے ورکروں کی طرف سے رد عمل کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اب وہ صرف صحافی یا اینکر پرسن نہیں ہے ، نہ ہی کسی ڈبیٹ مقابلے کا جج ۔ بلکہ اب وہ ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ بن چکا ہے اس لیے انہیں بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اگر وہ واقعی ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ایک لاٹھی سے سب کو ہانکنا پڑے گا نہ کہ ایک پارٹی کو ۔۔۔ کیونکہ کل تک ان سے کوئی سوال نہیں پوچھتا تھا ۔ اب تو سوال بھی ہوں گے ، تحفظات بھی اور تو احتجاج بھی ہوسکتا ہے۔