مہاجرین کشمیر اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر آگئے
تحریر: محمد اقبال میر
آزاد جموں و کشمیر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مہاجرینِ جموں و کشمیر (1989ء مابعد) تحریکِ آزادی کے اُس بیس کیمپ سے سوال کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جسے کبھی کشمیریوں کی امیدوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ بیس کیمپ جیسے ریس کیمپ میں بدل گیا۔جہاں آزادی کی منزل اوجھل اور مفادات کی دوڑ نمایاں ہو گئی ہیں۔
صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم کی علالت سے قبل کم از کم کسی نہ کسی سطح پر مسئلہ کشمیر علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوتا رہا، مگر آج آزادکشمیر کا حکمران طبقہ جیسے اس بنیادی قومی ذمہ داری کو فراموش کر چکا ہے۔ فراموش بھی کیوں نہ کرے، جب یہاں اُن دس ہزار مہاجر خاندانوں کو یاد رکھنے کی زحمت ہی نہ کی جائے جنہوں نے نوے کی دہائی میں “تم بھی اٹھو اہلِ وادی”کا نعرہ سن کر ہجرت کی اور پھر 36 برسوں میں ایک لاکھ کشمیریوں نے جامِ شہادت نوش کیا، دو لاکھ سے زائد بچے شفقتِ پدری سے محروم ہوئے۔
یہی مہاجرین آزادکشمیر آ کر بھی تحریکِ آزادی کے ہر محاذ پر پیش پیش رہےسیاسی بھی، عسکری بھی۔ ان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ مگر بدقسمتی سے 2003ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی معاہدے کے بعد بھارت کو موقع ملا کہ اس نے لائن آف کنٹرول کو عملی طور پر سیل کر دیا ۔ ریاست جموںوکشمیر متنازعہ علاقہ ہے باوجود اس کے ہندوستان اسے اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور کشمیری بھارت اس اقدام کو جوتے کی نوک پر رکھتے رہے ہیں حالانکہ بھارت نے لائن آف کنٹرول کو سیل کرنے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کو مقتل گاہ میں تبدیل کیا ہے اور 5 اگست 2019ء کو بھارت نے کشمیر کو عملاً ہڑپ کر لیا۔ ان تمام سانحات کے بعد بھی آزادکشمیرجو تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ کہلاتا تھاایسی خاموشی اختیار کیے رہا جیسے یہاں بسنے والے مہاجرین کا وجود ہی بے معنی ہو گیا ہو۔
جن لوگوں نے پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کیا، وہ آج کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اسی تناظر میں سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں سیکڑوں مہاجرین کی موجودگی میں مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم نمائندہ فورم ورکنگ کمیٹی کی جانب سے پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے عزیر احمد غزالی وہ نام ہیں جنہوں نے پہلے عسکری اور پھر گزشتہ بیس برسوں سے سیاسی محاذ پر تحریکِ آزادی کشمیر کی آبیاری کی، بھارت کے عزائم کے خلاف مسلسل آواز بلند کی اور آزادی کے لیے فریاد کرتے رہے۔ مظفرآباد کے چوک اور گلیاں ان کی جدوجہد کی گواہ ہیں۔
یوم یکجہتی کشمیر ، حریت کانفرنس اور مہاجرین فورم کی مشترکہ حکمت عملی طے
یہ جدوجہد صرف عزیر احمد غزالی تک محدود نہیں، بلکہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کا بچہ بچہ آج بھی تحریکِ آزادی میں کسی سے پیچھے نہیں۔ جب آزادکشمیر میں خاموشی بڑھنے لگی تو مہاجرین کو بھی احساس ہوا کہ معاملات کس سمت جا رہے ہیں۔ گزشتہ 36 برسوں بالخصوص حالیہ 20 برسوں میں مہاجرین کے مسائل دیمک کی طرح پھیلتے گئے، حتیٰ کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی زبان پر تو ہمیشہ یہی رہا کہ مہاجرین کے مسائل “جینوئن” ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر مسائل حقیقی ہیں تو پھر حل کی راہ میں رکاوٹیں کیوں؟
مہاجر کیمپوں میں پینے کے صاف پانی کا شدید فقدان ہے، سیوریج لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ایک ایک گھر میں تین تین خاندان رہنے پر مجبور ہیں۔ دو کمروں کے مکان میں 12 سے 15 افراد کی رہائش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مہاجرین کو دانستہ دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ صر ف اتنا ہی نہیں تین ہزار خاندان کرایوں پر آباد ہیں اور ان خاندانوں میں اکثریت کے پاس کرایہ دینے کی سکت بھی نہیں ہے۔ اتنے مسائل اور حکومتی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔
بالآخر مہاجرین بول پڑے۔ اتوار کے روز سنٹرل پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس اس خاموشی کے ٹوٹنے کا اعلان تھی۔ اس سے قبل وہ خطوط لکھتے رہے، ملاقاتیں کرتے رہے، متعلقہ اداروں اور وفاقی سطح تک اپنی آواز پہنچاتے رہےمگر نتیجہ صفر رہا۔آزادکشمیر میں بسنے والے یہ دس ہزار مہاجر خاندان آج دوہرے شکوے رکھتے ہیں:
ایک تحریکِ آزادی کے حوالے سے اور دوسرا اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے۔ اگر یہی بے حسی برقرار رہی تو پھر جدوجہد کا دائرہ وسیع ہو گا اور خاموشی ٹوٹ کر سڑکوں پر آ جائے گی۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مہاجرین پاکستان کے وہ بلا تنخواہ سپاہی ہیں جنہوں نے اللہ، اس کے رسول ﷺ کی رضا اور پاکستان کے لیے سب کچھ قربان کیا۔
5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، مگر جن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے، وہی حقیقی وارث آج روٹی، کپڑے اور مکان کو ترس رہے ہیں۔ انہیں شکوہ کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ یہ مظلوم لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے وقار کو بلند کیا ہے اور آج بھی پاکستان کو اپنا سب کچھ مانتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں مسائل کی آواز مظفرآباد تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر میں گونجتی ہے۔ اگر 4 فروری کو بھوک ہڑتالی کیمپ لگا تو یہ صرف تحریکِ آزادی ہی نہیں بلکہ آزادکشمیر کے حکمرانوں کی بے حسی اور متعلقہ اداروں کے عدم تعاون پر بھی ایک سوالیہ نشان ہو گا۔
اب فیصلہ کرنا ہوگا۔کیا ان مہاجرین کے مسائل حل کیئے جائیں گے یا پھر تاریخ ایک اور ناانصافی کا اندراج کرے گی؟