تحریر ۔۔ میر مجیب الحق
انسان نے جب پتھروں سے آگ جلانا سیکھی تھی، تب سے آج کے مصنوعی ذہانت (AI) کے دور تک، انسانی ترقی کا واحد مقصد "قربت” رہا ہے۔ ہم نے سمندروں کے سینے چاک کیے، فضاؤں میں راستے بنائے تاکہ فاصلے مٹ سکیں، لیکن دنیا کے نقشے پر ایک لکیر ایسی بھی ہے جہاں ٹیکنالوجی کے تمام معجزے آ کر دم توڑ دیتے ہیں۔ وہ لکیر جو کشمیر کے سینے پر کھینچی گئی ہے۔
مجھے یاد ہے وہ دور جب خط و کتابت ہی اپنوں سے جڑے رہنے کا واحد سہارا تھا۔ ایک نیلا لفافہ لکھ کر اسے ڈاک خانے کے سپرد کر دینا گویا اپنی دعا کو ہوا کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کے مترادف تھا۔ مہینوں انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا کہ شاید کوئی جواب آ جائے، کوئی خیریت کی خبر مل جائے۔ پھر وقت بدلا، ہم نے 83 روپے فی منٹ کے حساب سے "گیٹ وے” کالز پر اپنی پاکٹ منی لٹائی۔ وہ چند سیکنڈز کی کٹی کٹی آواز، وہ "ہیلو” کی گونج، مہینوں کی پیاس بجھانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ پھر کارڈز کا دور آیا، پھر واٹس ایپ اور IMO نے ویڈیو کالز کے ذریعے چہروں کی جھلک بھی دکھا دی۔
مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب سرحد پار سے کسی عزیز کی وفات کی خبر ملتی تھی۔ ٹیکنالوجی چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ رابطہ ممکن ہے، مگر سگنلز کی بے رخی اور لکیر کے دونوں طرف لگی پابندیوں نے ہمیں اپنوں کی آخری رسومات میں شریک ہونا تو دور، ڈھنگ سے تعزیت کرنے کے قابل بھی نہ چھوڑا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ "دکھ بانٹنے سے کم ہوتا ہے”، کشمیریوں کے لیے یہ مقولہ بھی خواب بن گیا ہے۔ ہم اپنا دکھ بانٹنے کے لیے بھی کسی تیسرے ملک کے رشتہ دار کا انتظار کرتے ہیں کہ شاید وہ وہاں سے کال کر کے ہمیں ہمارا ہی حال سنا دے۔

لیکن المیہ دیکھیے!
آج جب دنیا ایک "گلوبل ویلج” بن چکی ہے، جب کالز مفت ہیں اور انٹرنیٹ کی رفتار پلک جھپکنے میں سات سمندر پار پہنچا دیتی ہے، تب ہم کشمیریوں کے لیے خاموشی کا پہرہ اور بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ آج فون جیب میں ہے، بیلنس بھی موجود ہے، مگر دوسری طرف کی گھنٹی نہیں بجتی۔
کتنی عجیب بدقسمتی ہے کہ دو ملکوں کے عوام شاید ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں، سرحد پار جا سکیں، لیکن اسی مٹی کے جائیے، جن کے آنگن اس لکیر نے بانٹ دیے، وہ اپنی "ماما” کی آواز سننے کو ترس گئے ہیں۔ اپنی ماں سے حال پوچھنا کسی دوسرے سیارے پر جانے جتنا کٹھن بنا دیا گیا ہے۔ یہ کیسا جرم ہے جس کی سزا نسل در نسل دی جا رہی ہے؟ کیا صرف کشمیری ہونا ہی وہ خطا ہے جس کا کفارہ اپنوں کی آواز سے محرومی ہے؟
کشمیر، جسے دنیا "جنوبی ایشیا کےمسائل کی جڑ” کہتی ہے، دراصل انسانی جذبوں کی وہ مقتل گاہ ہے جہاں روزانہ لاکھوں خواہشات کا قتل ہوتا ہے۔ ہم اس ڈیجیٹل دور کے وہ "بدقسمت قیدی” ہیں جن کے پاس دنیا بھر سے بات کرنے کی سہولت تو ہے، لیکن اپنے اس پیارے سے بات کرنے کا حق نہیں جو محض چند کلومیٹر دور، ایک مصنوعی لکیر کے اس پار بیٹھا ہماری آواز کا منتظر ہے۔
ٹیکنالوجی نے فاصلے تو سمیٹ دیے، مگر سیاست نے دلوں کے بیچ وہ دیواریں کھڑی کر دیں جنہیں واٹس ایپ کی کال یا انٹرنیٹ کے سگنلز عبور نہیں کر سکتے۔ آج آوازیں تو ہیں، مگر مخاطب غائب ہیں۔ کال تو سستی ہے، مگر اپنوں کا حال معلوم کرنا آج بھی اتنا ہی مہنگا ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے ترقی نہیں کی، ہم صرف رابطوں کے نئے قید خانوں میں منتقل ہوئے ہیں۔