کشمیر کی آزادی کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں،سراج الحق
سراج الحق نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے صرف سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات بھی کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق اور کشمیری عوام کا وکیل ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اسلام آباد میں قائمقام امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان ایڈووکیٹ مشتاق احمد کی سربراہی میں آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ 90 لاکھ کشمیریوں کو 10 لاکھ قابض بھارتی افواج کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ظلم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی عملی مدد کرے اور ان کی مظلومیت کا تماشہ نہ دیکھے۔
سراج الحق نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قائم تمام ڈیمز کی رائلٹی متعلقہ حکومتوں کو دی جائے۔ پانی کے ایک ایک قطرے کا حساب کر کے وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ یہ حکومتیں اپنے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر سکیں اور خطے کو خود کفیل بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں وزیراعظم اور صدراتی دفاتر میں کشمیری عوام کے ضمیر کی منڈیاں نہ لگائی جائیں۔ یہ عہدے پوری کشمیری قوم کی نمائندگی کے لیے ہیں، نہ کہ کسی ایک جماعت کے لیے۔
سابق امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ روایتی سیاسی جماعتیں اور موروثی قیادتیں عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ اگر عوام جماعت اسلامی پر اعتماد کریں تو جماعت اسلامی نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کرے گی بلکہ عوامی مسائل حل کر کے ریاست کے قومی تشخص کو بھی بحال کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی رکنیت کے دوران انہوں نے ایوان میں کشمیریوں کی آواز بننے کی کوشش کی اور آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ میں اضافے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے اوورسیز کشمیریوں کے زر مبادلہ کو بھی مقامی حکومتوں کو دینے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ باوسائل ہو کر عوام کو سہولیات فراہم کر سکیں۔
وفد میں جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ راجہ خالد محمود خان، مرکزی سیکرٹری اطلاعات راجہ ذاکر خان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے سیاسی حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔