طارق رحمان ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس نے بنگلہ دیش کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کے والد، نے فوجی زندگی سے سیاست تک کا سفر طے کیا
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طویل جلاوطنی کے بعد طارق رحمان ایک بار پھر طاقت کے مرکز میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ملکی سیاست میں ان کی واپسی کو محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
20 نومبر 1965ء کو ڈھاکہ میں پیدا ہونے والے طارق رحمان ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس نے بنگلہ دیش کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کے والد، نے فوجی زندگی سے سیاست تک کا سفر طے کیا اور 1977ء میں ملک کے صدر بنے، تاہم 1981ء میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیے گئے۔ ان کی والدہ، دو مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم رہ چکی ہیں اور طویل عرصے تک ملکی سیاست کا مرکزی چہرہ رہی ہیں۔
اسی سیاسی وراثت کے سائے میں پروان چڑھنے والے طارق رحمان نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں اپنی والدہ کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی میں فعال کردار ادا کرنا شروع کیا۔ بی این پی اور اس کی روایتی حریف عوامی لیگ کے درمیان سیاسی کشمکش برسوں سے جاری ہے، اور یہی کشمکش طارق رحمان کے سیاسی کیریئر کا اہم حصہ بھی رہی۔
2008ء کے انتخابات کے بعد کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات سامنے آنے پر وہ بیرونِ ملک چلے گئے اور تقریباً 17 برس جلاوطنی میں گزارے۔ ان کے حامی اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین اسے قانونی کارروائی کا نتیجہ کہتے ہیں۔ طویل غیر حاضری کے باوجود وہ اپنی جماعت کی قیادت کرتے رہے اور پارٹی ڈھانچے پر اثرانداز ہوتے رہے۔
حالیہ انتخابات میں بی این پی نے 300 میں سے تقریباً 210 نشستیں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اگرچہ حتمی سرکاری نتائج میں رد و بدل ممکن ہے۔ اگر یہ برتری برقرار رہتی ہے تو اسے واضح عوامی مینڈیٹ تصور کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مضبوط اکثریت حکومتی استحکام کا سبب بن سکتی ہے اور کمزور اتحادی سیاست کے دباؤ سے بچا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کار طارق رحمان کی سیاسی زندگی کا موازنہ پاکستان کے سابق وزیرِاعظم نواز شریف سے بھی کرتے ہیں، جنہوں نے جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور پھر واپسی کا مرحلہ دیکھا۔ تاہم دونوں ممالک کے سیاسی اور عدالتی نظام مختلف ہیں، اس لیے اس تقابل کو محض سیاسی مماثلت تک محدود سمجھا جا رہا ہے۔
خطے میں اس پیش رفت کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ 1971ء کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری اور محدود تعاون کا رجحان رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئی قیادت عملی سفارتکاری اور معاشی تعاون کو ترجیح دیتی ہے تو تجارت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
فی الحال نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ طارق رحمان اپنی ممکنہ اقتدار سنبھالنے کے بعد داخلی استحکام، احتساب اور علاقائی تعلقات کے حوالے سے کیا حکمتِ عملی اپناتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے، اور آنے والے مہینے اس کے اثرات کو واضح کریں گے۔