ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز اور دیگر کی پریس کانفرنس
مظفرآباد…
دی ما ئنڈ ڈاٹ پی کے
فرینڈ آف کشمیر نامی تنظیم کے رہنما عبدالحمید لون کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی ممکنہ بھارتی فنڈنگ کے حوالے سے خوفناک انکشافات کے بعد آزادکشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی کے سرکردہ ممبر شوکت نواز میر کا ردعمل بھی سامنے آگیا…مظفرآباد میں کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا.
عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے واضح کر دیا ہے کہ یہ جدوجہد خالصتاً عوامی ہے اور اس کا واحد مقصد خطے کے شہریوں کے حقوق کی بحالی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا ذاتی ایجنڈے کو عوامی حقوق پر ترجیح نہیں دے گی۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ یہ تحریک مظلوم عوام کی آواز ہے اور اسے کسی بھی بیرونی یا تخریبی طاقت کے ساتھ جوڑنا شرمندگی کا باعث ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کے اندرونی معاملات میں کسی بھی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی اور اپنی جدوجہد کو پرامن اور جمہوری طریقے سے جاری رکھے گی۔
اسی ضمن میں کور کمیٹی کےممبر شوکت نواز میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جاری ایک بیان میں خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا:
”را کا ایجنٹ میں نہیں وہ ہیں جو را کے کمشنر سے خفیہ ملاقاتیں کرتا ہے۔”
شوکت نواز میر نے کہا ہے کہ”میرا منہ کھل گیا تو تحریک آزادی کشمیر کے نام پر پلنے والوں کیلئے دھرتی تنگ ہو جائے گی۔ حریت کے پلیٹ فارم سے مال بنانے والوں کا محاسبہ کیا جائے۔”
شوکت نواز میر نے ایسے عناصر سے سوال کیا جو عالی شان طرز زندگی گزار رہے ہیں لیکن عوامی حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔ انہوں نے پوچھا ھے کہ ”کس کے بچے کس کے خرچ پر برطانیہ اور دیگر ممالک میں پڑھ رہے ہیں؟”
”بڑے بڑے گھر، بنک اکاؤنٹس، بڑی گاڑیاں، شاہانہ طرز زندگی کس طرح؟”انہوں نے مزید کہا کہ سب کو معلوم ھے کہ
”ایم ایل اے بننے کی خواہش کس کی ھے ۔انہوں نے کہا کہ ادارے سب دیکھ رہے ہیں ان مال بنانے والوں کا وقت قریب ہے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ الزامات کی سیاست نہ کرو ثبوت ہیں تو سامنے لاؤ۔”
عوامی ایکشن کمیٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایک مکمل طور پر غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا کوئی جماعتی ایجنڈا نہیں ہے۔ کمیٹی نے مخالفین کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ تحریک کو بھارت سے فنڈنگ مل رہی ہے۔
کمیٹی نے سوال کیا کہ ”عوامی ایکشن کمیٹی عوام کی ہے، بھارتی فنڈنگ کہاں؟”
آخر میں شوکت نواز میر نے ایک نئی پیشرفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا:”نیا پنڈورا باکس کھلنے کو ہے۔”