تحریر ۔۔۔ مقصود منتظر

"وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ”
ترجمہ:اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا، سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
کُلٌّ۔۔ (سب)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی سورج، چاند، اور باقی نظام (جس میں زمین بھی شامل سمجھی جاتی ہے)۔
فِي فَلَكٍ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں "فَلَك” کا مطلب ہے مدار (orbit / path)
یعنی ہر چیز ایک مخصوص راستے پر چل رہی ہے۔
يَسْبَحُونَ(تیر رہے ہیں)
یہ لفظ عربی میں ایسے حرکت کے لیے آتا ہے جیسے کوئی چیز پانی میں تیر رہی ہو
یعنی:مسلسل حرکت ،نرم اور رواں انداز ،بغیر ٹکرائے اپنے راستے پر چلنا
کُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ” = سب اپنے مدار میں حرکت کر رہے ہیں ۔
یہ آیت کائنات کے متحرک (dynamic) ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ جدید سائنس بھی اسی بات کی تصدیق کرتی ہے
اب سوال یہ ہے کہ یہاں لفظ تیرنا کیوں استعمال ہوا ہے ۔۔ گھومنا کیوں نہیں ؟؟؟
قرآن نے یہاں "يَسْبَحُونَ” کا لفظ استعمال کیا، جو عربی میں عام طور پر تیرن، بہنے ، روانی سے حرکت کرنے کے لیے آتا ہے۔
اگر قرآن صرف "گھومنا” کہتا (جیسے عربی میں "یَدُورُونَ”) تو معنی محدود ہو جاتے
صرف دائرے میں گھومنا (rotation)،ایک خاص قسم کی حرکت ۔جبکہ حقیقت میں آسمانی اجسام کی حرکت بہت پیچیدہ ہے،زمین اپنے محور پر بھی گھومتی ہے ،سورج کے گرد بھی چکر لگاتی ہے ،سورج خود بھی کہکشاں میں حرکت کر رہا ہے ،اس پورے نظام کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو "تیرنا” زیادہ جامع بنتا ہے۔
آج ہم جسے مدار کہتے ہیں، وہ صرف "گھومنا” نہیں بلکہ آگے کی طرف رفتار (velocity) ، کششِ ثقل کا توازن ،خلا میں مسلسل حرکت ، یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی چیز خلا میں "تیر” رہی ہو۔
يَسْبَحُونَ” میں تین خوبصورت پہلو ہیں
نرمی (smooth motion) ۔۔۔ کوئی جھٹکا یا ٹکراؤ نہیں
استمرار (continuity) ۔۔۔ حرکت مسلسل جاری ہے
آزادی (freedom) ۔۔ کھلے خلا میں حرکت
یعنی قرآن نے ایسا لفظ چنا جو ہر قسم کی کائناتی حرکت کو سمیٹ لے
ایک اور دلچسپ بات آپ تک پہنچاوں وہ یہ کہ جسے ہم خلا یا سپیس کہتے ہیں وہ بظاہر خالی ہے لیکن حقیقت میں خالی نہیں ہے ۔ یہ خلا بھی دراصل ایک سمندر ہے ۔
جدید سائنس کے مطابق خلا (space) بالکل خالی نہیں ہوتا، بلکہ اس میں مختلف چیزیں موجود ہوتی ہیں:
سائنس کے مطابق خلا میں بہت کم مقدار میں ایٹمز (atoms) ، آئنز (charged particles) ،کاسمک ریز (cosmic rays) موجود ہوتے ہیں
اسی طرح جدید فزکس خاص طور پر کوانٹم فزکس یہ بتاتی ہے کہ:
خلا دراصل ایک طرح کا "میدان” (field) ہے، جس میں توانائی موجود رہتی ہے ،ذرات لمحہ بھر کے لیے بنتے اور ختم ہوتے ہیں ۔ اس تصور کو کوانٹم ویکیوم کہتے ہیں۔
بعض سائنس دان یہ مان چکے ہیں کہ خلا ایک "جال” (web) ہے، تو اس سے مراد ہو سکتی ہے
پورا خلا مختلف فیلڈز سے بھرا ہوا ہے، بڑی سطح پر کہکشائیں ایک جال نما ساخت بناتی ہیں جسے
کاسمک ویب کہتے ہیں۔ خلا "ہوا” یا "ٹھوس جال” کی طرح نہیں ہے ،بلکہ یہ ایک انتہائی کم کثافت والا ماحول ہے ،اور مائیکرو لیول پر ایک توانائی اور فیلڈز کا نظام ہے
دوبارہ آیت کی طرف آئیں ۔۔
اگر ہم قرآن کی آیت "كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ” (سورۃ الانبیاء 21:33) کو جدید سائنسی تصور کے ساتھ دیکھیں، تو "تیرنا” (يَسْبَحُونَ) کا انتخاب بہت موزوں لگتا ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں
خلا خالی نہیں بلکہ ذرات، توانائی اور فیلڈز کا ایک جال ہے ،آسمانی اجسام اس "ہلکی مگر موجود مائع نما یا فیلڈ نما” ساخت میں حرکت کرتے ہیں ،لہٰذا لفظ "تیرنا” ایسے ماحول کے لیے زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ بغیر کسی رکاوٹ کے روانی سے حرکت کو ظاہر کرتا ہے
مطلب یہ کہ
قرآن میں "يَسْبَحُونَ” کا لفظ سائنسی اور کائناتی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ لگتا ہے ۔یہ لفظ آسمانی اجسام کی متحرک، آزاد اور مسلسل حرکت کی جامع تصویر پیش کرتا ہے "گھومنا” اس سے محدود اور کم جامع ہوتا ۔
قرآن نے لفظ منتخب کرتے وقت نہ صرف زبان کی بلاغت بلکہ کائناتی حقیقت کی عکاسی بھی مدنظر رکھی۔ اللہ ہمیں قرآن پڑھنے ، سمجھنے اور سمجھانے کی ہدایت عطا فرمائے آمین ۔۔ طالب دعا ۔۔۔ مقصود منتظر