اسلام آباد
دی مائنڈڈاٹ پی کے
ایس ایم ایس کی لاگت ایک پیسہ مگر تین سو چالیس پیسے وصولی کیوں ۔۔سینیٹ کی خزانہ میں لوٹ کے مار کے ہوشربا انکشافات ۔۔ اراکین نے ٹیلی کام کمپنیوں سے سوالات کی بوچھاڑ کردی ۔۔ اپنی مشہوری اور غیر ضروری مسیجز پر بھی صارفین کے اکاونٹس سے کٹوتی ۔۔۔ معاملہ آخر کیا ہے ۔ معمولی سا ایس ایم ایس اور اربوں کی ماردھاڑ ۔۔ صارفین کے مال سے کمپنیوں اور بینکوں کی مشہوری ۔۔ فضول مسیج پر بھی صارفین کے اکاونٹس سے رقم کی کٹویتی ۔۔۔ ٹیلی کام کمپنیوں کی لوٹ مار کا نیا بھانڈا پھوٹ گیا ۔۔۔
سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں بینکوں اور ٹیلی کام شعبےکی جانب سے اضافی فیس وصول کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کیا وجہ ہے کہ صارفین سے اضافی فیس وصول کی جا رہی ہے،
اس پر چیئرمین پاکستان بینک ایسوسی ایشن ظفر مسعود نے کہا کہ صارفین کو دو طرح کے ایس ایم ایس کیے جاتے ہیں، بینکوں کی طرف سے ریگولیٹری قسم کے ایس ایم ایس سب کو بھیجے جاتے ہیں،اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے مطابق ریگولیٹری ایس ایم ایس ضروری ہیں، دوسری قسم کے ایس ایم ایس بینک خود صارفین کو بھیجتے ہیں، ٹیلی کام کی جانب سے 2021 سے ابتک چارجز میں 88 فیصد اضافہ ہوا ہے، ٹیلی کام کسٹمر سے چارجز کم اور ہم سے زیادہ لیتا ہے، کسٹمر سے وصول کیے جانے والے چارجز کی تفصیلات سٹیٹ بینک فراہم کر سکتا ہے، ٹیلی کام سیکٹر کے ساتھ کافی حد تک ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ہماری ڈیجیٹل ایپس پر نوٹیفیکیشن فری آف کاسٹ ہوتی ہیں، اب تو 88 فیصد صارفین کو ایپس سے نوٹیفیکیشن ملتی ہیں،
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایس ایم ایس سروس کی مد میں جاز 2.9 روپے، یوفون 2.19 روپے چارج کرتا ہےزونگ صارفین سے ایس ایم ایس سروس کی مد میں 2.48 روپے چارج کرتا ہے، ٹیلی کام کمپنیاں انہیں ایس ایم ایس میں بینکوں سے 4 روپے سے زائد چارج کرتی ہیں،۔
سلیم مانڈوی والاکا کہنا تھا کہ کچھ صارفین کہتے ہیں ہم نہیں چاہتے پھر بھی ایس ایم ایس آتے ہیں، ہمیں تمام تفصیلات دیں کہ ریگولیٹری اور دوسرے میسج سے کتنی رقم جمع ہوتی ہےہر طرح کی سروس کے میسج پر وصول کیے جانے والے چارجز کی تفصیلات بھی دیں، ہمیں بتائیں کہ اس وقت ریگولیٹری اور دوسرے کتنے میسج بھیجے جاتے ہیں، ایس ایم ایس کا سارا بوجھ صرف صارفین پر آ رہا ہے۔
سینیٹر انوشے رحمان نے کہا کسٹمر کو بھیجے جانے والے ایک میسج کی لاگت کتنی ہوتی ہے، ایک یا دو پیسے کے ایس ایم ایس پر تین روپے سے زیادہ چارج کیوں کیا جاتا ہے، ٹیلی کام کمپنیاں ہزاروں میسج بلک میں بھی آفر کرتی ہیں،
اس پر صدر بینک ایسوسی ایشن نے جواب دیا ہم ایس ایم ایس سروس کی مد میں ٹیلی کام کو 24 ارب روپے دے رہے ہیں، صارفین کی جانب سے ہمیں واپس صرف 19 ارب روپے مل رہے ہیں،
صدر ایچ بی ایل کا کہنا تھا کہ 2021 میں صارفین سے ایک ایس ایم ایس پر 48 پیسے وصول کیے جاتے تھے، آج صارفین سے ایک میسج پر 3 روپے 44 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، ٹیلی کام نت چند سالوں میں ایس ایم ایس چارجز میں بڑا اضافہ کیا ہے۔اس دوران چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پوچھا اتنے پیسے کی تو ریکوری کرنی چاہئیے،
نمائندہ ٹیلی کام نے بتایا کہ ہم جو بھی رقم بینکوں سے لیتے ہیں ہمارے پاس سب تفصیلات ہیں، زیادہ تر نوٹیفیکیشن کسٹمر سیفٹی کیلئے ہوتے ہیں، اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ایپس کے ذریعے نوٹیفیکیشن کا آپشن دیا۔ہمارا بزنس ہے انہی چیزوں سے ہم نے پیسہ کمانا ہے، اگر کہا جائے کہ یہ فری دے دو وہ فری دے دو تو بزنس کتنے دن چلے گا،