رپورٹ ۔۔ خواجہ کاشف میر
ڈڈیال، میرپور ۔۔ دی مائنڈڈاٹ پی کے
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ڈڈیال میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں آئندہ انتخابات کے انعقاد پر بڑے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ آزاد جموں کشمیر میں شفاف، منصفانہ، غیر جانبدار اور قابلِ قبول انتخابات کے انعقاد کے حق میں ہے، تاہم اس کے لیے فوری آئینی و انتخابی اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ عوام اپنے حقِ رائے دہی کا درست استعمال کر سکیں۔

کور کمیٹی، تینوں ڈویژنز کی ذیلی ایکشن کمیٹیوں اور عوامی رائے کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی کہ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کی خلاف ورزی، اور مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر قائم 12 متنازعہ و غیر آئینی نشستوں کے مسئلے کو حل کیے بغیر انتخابات کا انعقاد عوام کے ساتھ “دھوکہ” ہوگا۔
ایکشن کمیٹی نے واضح کیا کہ وہ جمہوری عمل کی مخالف نہیں، لیکن ان 12 نشستوں کے ذریعے عوامی مینڈیٹ پر اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ مطالبہ کیا گیا کہ انتخابات سے قبل ان نشستوں کا خاتمہ، حکمران اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، اور معاہدوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو باضابطہ اسٹیک ہولڈر تسلیم کرتے ہوئے ایک آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے، جبکہ آبادی کے تناسب سے نئی حلقہ بندیاں اور دیگر انتخابی اصلاحات بھی نافذ کی جائیں۔ اس سلسلے میں کمیٹی نے باقاعدہ چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کر دیا ہے۔ کمیٹی نے اعلان کیا کہ شدید تحفظات کے باوجود مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے، تاہم مطالبات کی منظوری کے لیے 31 مئی 2026 تک کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق اگر اس تاریخ تک مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو 9 جون 2026 کو بھمبر، میرپور سے مظفرآباد اسمبلی کی جانب ایک “تاریخ ساز لانگ مارچ” شروع کیا جائے گا، جو مظفرآباد پہنچ کر اسمبلی کے سامنے غیر معینہ مدت کے دھرنے میں تبدیل ہو جائے گا، جبکہ پورے آزاد کشمیر میں لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال بھی کی جائے گی۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحریک کی تیاری کے لیے کم از کم ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کریں اور وارڈ سطح پر تنظیم سازی کو فوری فعال بنائیں۔ ساتھ ہی حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے حوالے سے بھرپور عوامی رابطہ مہم، کانفرنسز اور سیمینارز کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا۔
اوورسیزکشمیریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اس تحریک میں بھرپور کردار ادا کریں جبکہ ملکی و عالمی میڈیا سے کہا گیا کہ وہ حکومتی وعدہ خلافیوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں۔ اعلامیے میں گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سمیت گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
کور کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کے خلاف NCCIA کی جانب سے درج مقدمے کی شدید مذمت کی گئی، اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے صرف 29 ستمبر کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے برعکس ایک حریت رہنما کے متنازع بیانات اور ایک کشمیری صحافی کی طویل حراست کو انصاف پر سوالیہ نشان قرار دیا گیا۔
تعلیم کے شعبے سے متعلق اعلامیے میں کہا گیا کہ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کے فیصلے پر عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم میرپور بورڈ کے وسائل منتقل کرنے کی مبینہ کوشش کو “علاقائی تقسیم کی سازش” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
اسی طرح محکمہ برقیات کو ملنے والی 10 ارب روپے کی گرانٹ کے شفاف اور میرٹ پر استعمال کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ اجلاس کے اختتام پر یہ اعلامیہ کور کمیٹی کے رکن خواجہ مہران نے ڈڈیال چوک میں سینکڑوں افراد کی موجودگی میں پیش کیا۔