آزادکشمیر الیکشن، مہاجرین89 کیلئےنشستیں مختص کی جائیں، مطالبہ سامنے آگیا
مظفرآباد
دی مائنڈڈاٹ پی کے
آزادکشمیر میں الیکشن کا بغل بچنے سے پہلے ہی مختلف سرگرمیاں شروع ہوگئیں ۔ جہاں مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنے کی تیاریاں کررہی ہیں وہی مہاجرین جموں و کشمیر 89 بھی اپنے امیدوار لانے کے خواہاں ہیں ۔ اس حوالے سے مہاجرین کی مہم بھی شروع ہوچکی ہے اور اہل اقتدار و اختیار سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ مہاجرین 89 کو بھی نمائندہ کا حق دیا جائے ۔
مظفرآباد ( ) مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے امیر عزیر احمد غزالی نے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد ریاست جموں کشمیر میں 2026 کے عام انتخابات میں مہاجرین 1989 کیلئے جموں اور ویلی کی نشستیں مختص کی جائیں تاکہ انہیں ایوان میں مؤثر سیاسی نمائندگی حاصل ہو سکے۔
میڈیا کے نام جاری کیئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 1989 کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے باعث ہزاروں کشمیری خاندان ہجرت پر مجبور ہوئے، تاہم آج تک انہیں آزاد کشمیر میں وہ سیاسی مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار ہیں۔ ان کے مطابق مہاجرین نہ صرف تحریک آزادی کشمیر کا اہم حصہ ہیں بلکہ انہوں نے قربانیوں کی ایک طویل تاریخ رقم کی ہے۔
عزیر احمد غزالی نے کہا کہ اس وقت آزاد جموں کشمیر کے مختلف اضلاع کے مہاجرین بستیوں میں ہزاروں مہاجر خاندان رہائش پذیر ہیں جبکہ تین ہزار سے زائد خاندان مختلف شہروں میں کرائے کے گھروں میں مقیم ہے۔ ہزاروں نفوس پر مشتمل اس آبادی میں 27 ہزار کے قریب ووٹرز موجود ہیں، تاہم ووٹ مختلف حلقوں میں تقسیم ہونے کے باعث ان کی کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
عزیر احمد غزالی نے مزید کہا کہ مہاجرین کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا ناانصافی ہے جبکہ ان کے مسائل جوں کہ توں باقی ہیں۔ ان حالات میں مہاجرین 1989 کیلئے علیحدہ انتخابی حلقے قائم کیئے جانے انتہائی ضروری ہوگیا ہے ۔ تاکہ وہ اپنے مسائل کے حل اور مسئلہ کشمیر کو ایوان ساز اسمبلی میں تقویت پہنچا سکیں۔انہوں نے حکومت اور سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ 2026 کے آمدہ انتخابات سے قبل مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے لیے کم از کم دو نشستیں ایک جموں اور ایک ویلی مختص کریں۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف آئینی تقاضا ہے بلکہ سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کی تکمیل بھی ہے۔۔۔۔