خلیجی ممالک میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو درپیش خطرات میں اضافہ
خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر، تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور آئی ٹی سروسز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معیشت کو متنوع بنانا اور ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
تاہم خطے میں ایران سے جاری کشیدگی اور حالیہ تنازعات کے باعث اس ڈیجیٹل ترقی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں قائم ڈیٹا سینٹرز اور زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز ممکنہ حملوں کی زد میں ہیں، جو عالمی انٹرنیٹ اور ڈیٹا ترسیل کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ ڈیٹا کا بڑا حصہ زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جن میں 2Africa subsea cable جیسے بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان کیبلز کو نقصان پہنچنے کی صورت میں نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگی صورتحال کے باعث خلیج اور بحیرہ احمر میں نئی کیبلز بچھانے کے منصوبے سست روی کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ ماضی میں حوثی حملوں کے نتیجے میں کیبلز کو نقصان بھی پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ بیشتر کیبل نقصانات حادثاتی ہوتے ہیں، لیکن موجودہ کشیدگی میں جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
متبادل کے طور پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز جیسے Starlink موجود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، اس لیے فائبر آپٹک کیبلز کی اہمیت برقرار ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں خلیجی راستوں کے بجائے متبادل روٹس اختیار کر سکتی ہیں، جس سے خلیجی ممالک کی معاشی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے خطے میں کشیدگی کم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔