لیلیٰ علی کی وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس پاکستان سے تحفظِ عزت کے لیے اپیل
لیلیٰ علی کی وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس پاکستان سے تحفظِ عزت کے لیے اپیل
راولپنڈی ۔۔ دی مائنڈڈاٹ پی کے
آواز شی میل فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن لیلیٰ علی نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے خلاف جاری مبینہ ہتک آمیز مہم پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی شہرت ہی بعض اوقات اس کی سب سے بڑی دشمن بن جاتی ہے، اور آج میں اسی صورتحال کا سامنا کر رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر بلاوجہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بے بنیاد ویڈیوز بنا کر انہیں بدنام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک معزز علاقے میں رہتی ہیں جہاں باعزت لوگ بستے ہیں، مگر چند “سستے ٹک ٹاکرز اور خودساختہ اینکرز” معاشرتی اقدار کو پامال کرتے ہوئے ان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
لیلیٰ علی نے واضح کیا کہ وہ جان بوجھ کر ان افراد کے نام نہیں لے رہیں کیونکہ وہ انہیں مزید شہرت نہیں دینا چاہتیں۔ یہ لوگ نہ صرف ہماری عزت اچھال رہے ہیں بلکہ اپنی اصل حیثیت بھی ظاہر کر رہے ہیں، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مختلف ثقافتی ڈانس کی تقریبات کا انعقاد کرتی ہیں جہاں بچوں اور بچیوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے، اور یہی ان کا ذریعہ معاش بھی ہے۔ “ہم محنت سے رزق کماتے ہیں اور باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں،چیئرپرسن نے خبردار کیا کہ اگر یہ مہم بند نہ ہوئی تو وہ سائبر کرائم کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے رجوع کریں گی اور ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی دائر کریں گی۔
آخر میں انہوں نے ملک کے اعلیٰ حکام، بشمول چیف جسٹس سپریم کورٹ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی کہ انہیں اور ان جیسے دیگر شہریوں کو معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کا حق فراہم کیا جائے اور سوشل میڈیا پر ہونے والی کردار کشی کا نوٹس لیا جائے