انڈین ہیون پریمئیر لیگ
سری نگر۔۔۔
چند دن جشن ، شورشرابا، چھکے چوکے اور پھر اچانک راتوں رات پورا خیمہ سنسان اور ویران ہوگیا۔ بات ہورہی ہے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ہونے والی انڈین ہیون پریمیئر لیگ کی جسے بیچ میں ہی ختم کردیا گیا ۔ انتظامیہ نے بخشی اسٹیڈیم سے بینرز اتاردیئے اور سامان پیک کردیا ۔ کرکٹ لیگ کو عین وسط میں اچانک منسوخ کرنے پر عوام حیران اور کھلاڑی پریشان ہیں کیونکہ کھلاڑیوں کو معاہدے کے تحت رقم نہیں ملی ۔
تفصیلات کے مطابق سری نگر میں انڈین ہیون پریمیئر لیگ (آئی ایچ پی ایل) ٹی 20 کو ٹورنامنٹ کے وسط میں منسوخ کر دیا گیا ہے جب منتظمین مبینہ طور پر کھلاڑیوں اور ہوٹل کے واجبات ادا کیے بغیر دہلی فرار ہو گئےجس سے تقریباً 70 کرکٹرز پھنسے ہوئے تھے۔

واقعے کی تفصیلات
نجی طور پر چلائی جانے والی، بی سی سی آئی کی غیر تسلیم شدہ لیگ کے منتظمین سری نگر کے ریڈیسن بلو میں کھلاڑیوں کے معاہدے کی ادائیگیوں اور ہوٹل کے اہم بلوں کو ادا کرنے میں ناکام رہے۔انتظامیہ نے رات کی تاریکی میں سامان پیک کیا چلتی بنی ۔
رقم سے محروم کھلاڑی
مقامی کشمیری کرکٹرز کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی کھلاڑی (جیسے فیض فضل، اقبال عبداللہ، انوپریٹ سنگھ، پروین کمار، اور کچھ سری لنکا اور قطر کے) سمیت تقریباً 70 کھلاڑیوں کو ابتدائی طور پر بلوں کے تصفیہ ہونے تک ہوٹل چھوڑنے سے روک دیا گیا تھا۔۔ ہوٹل انتظامیہ نے مبینہ طور پر بھاری بقایا رقم کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں بلوں کی ادائیگی تک باہر جانے سے روک دیا ہے۔
جس کے بعد مقامی حکام متحرک ہوا ۔ پولیس نے مداخلت کے بعد ہوٹلوں میں پھنسے ہوئے کھلاڑیوں کو ہوٹل چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ بخشی اسٹیڈیم میں ویرانی دیکھ کر مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں نے اپنی کٹس پیک کیں ۔ ان میں شدید غصہ ہیں ۔
دھوکہ دہی کے الزامات
مقامی نوجوان کھلاڑی جنہوں نے ٹرائلز کے لیے رقم ادا کی، مایوس ہوئے اور انہیں دھوکہ دہی کا احساس ہوا، کیونکہ منتظمین نے مبینہ طور پر معروف کھلاڑیوں کو ترجیح دی اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے بجائے منافع میں زیادہ دلچسپی ظاہر کی۔ بعض کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ یہ لیگ محض دنیا کو یہ دکھانے کیلئے رکھی گئی کہ کشمیر پرامن ہے ۔
مقامی میڈیا سے بات کرنے والے کھلاڑیوں کے مطابق، لیگ کی آرگنائزنگ باڈی کنٹریکٹ کی ادائیگیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو شیڈول میچوں کا بائیکاٹ کرنا پڑا۔

ایک کھلاڑی نےبتایا کہ "منتظمین نے ہماری منظور شدہ رقم ادا نہیں کی ہے۔ جب کھلاڑیوں نے بغیر ادائیگی کے جاری رکھنے سے انکار کر دیا، تو انہوں نے میچ منسوخ کر دیے۔ اب ہمیں ہوٹل کے اندر رکھا جا رہا ہے، جب تک واجبات کی ادائیگی نہیں ہو جاتی، ہم باہر نہیں جا سکتے”۔
منتظمین غائب
رپورٹس کے مطابق مرکزی منتظمین غائب ہو گئے ہیں، جس سے مبینہ مالی فراڈ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ اس واقعے نے کافی افراتفری پھیلا دی ہے اور خطے میں ایسی نجی لیگوں کے احتساب پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
ایک انگلش امپائر جس کی شناخت ایلی کے نام سے ہوئی ہے ان کی ادائیگی بھی باقی رہتی ہے ۔ ایمپائر نے برطانوی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے، ۔
ذرائع کے مطابق کئی ٹیم مالکان اور اسپانسرز کی جانب سے ادائیگیوں میں ناکامی کے بعد بحران مزید گہرا ہو گیا، جس سے نقدی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آرگنائزنگ باڈی کے ایک سینئر عہدیدار نے فنڈز کا بندوبست کرنے کی کوشش میں دہلی روانہ کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

غیر قانونی لیگ
ہیون لیگ کو جموں و کشمیر میں کھیلوں کی سیاحت کو فروغ دینے اور کرکٹ کے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر مارکیٹ کیا گیا تھا، لیکن اب اس ایونٹ کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان ہے۔ ٹورنامنٹ کو نہ تو بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈ اور نہ ہی جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے منظوری دی گئی ہے۔
کرکٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ناکامی ہندوستان کی غیر منظم نجی لیگز میں ایک بار بار آنے والے مسئلے کو اجاگر کرتی ہے، جو منافع بخش منافع اور نمائش کا وعدہ کرتی ہے لیکن اکثر ناقص مالی منصوبہ بندی اور جوابدہی کی کمی کی وجہ سے منہدم ہو جاتی ہے۔
کرکٹ شائقین پریشان
کرکٹ لیگ کو اچانک ختم کرنے پر کرکٹ کےشائقین حیران ہیں ۔ کہتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے اس غیر متوقع اقدام سے مقامی کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔
یاد رہے انڈین ہیون پریمیئر لیگ (آئی ایچ پی ایل) 25 اکتوبر سے شروع ہوئی تھی جس کے کل 27 میچ ہونے تھے ۔ سارے میچزکا انعقاد سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں ہورہا تھا فائل 8 نومبر کو شیڈول تھا تاہم لیگ کو اچانک ختم کیا گیا ۔ اس لیگ میں ویسٹ انڈیز کے کرس گیل ، بنگلہ دیش کے ثاقب الحسن سمیت کئی نامور کھلاڑی بھی حصہ تھے ۔