سوڈان کے شہر الفاشر میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا
الفاشر، سوڈان — بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور اقوامِ متحدہ کے مطابق سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور کے مرکزی شہر الفاشر میں انسانی المیہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ شہر میں اجتماعی قتل عام، جنسی تشدد، لوٹ مار اور اغوا کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ 65 ہزار سے زائد افراد اب تک الفاشر سے نکل چکے ہیں، تاہم دسیوں ہزار شہری تاحال محصور ہیں اور اپنی جانیں بچانے کے لیے محفوظ راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق شہر میں خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید قلت ہے، جب کہ کئی علاقوں میں لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔
گزشتہ ہفتے دارفور کے مغربی علاقے پر ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے قبضے کے بعد صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ RSF اور سوڈانی فوج کے درمیان جاری لڑائی نے الفاشر سمیت متعدد علاقوں کو کھنڈر بنا دیا ہے۔
یہ خانہ جنگی اپریل 2023 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب فوج اور نیم فوجی تنظیم RSF کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک 40 ہزار سے زائد افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق شہر پر قبضے کے بعد RSF کے جنگجوؤں نے شہریوں پر بدترین مظالم ڈھائے۔ زخمی اور خوفزدہ شہری موسیٰ نے بتایا کہ RSF کے اہلکاروں نے علاقے کے گھروں میں گھس کر خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور مردوں کو اجتماعی طور پر قتل کیا۔
ایک اور مقامی شہری کے مطابق RSF کے جنگجو بھاگنے کی کوشش کرنے والے افراد کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے اور بعض کو موقع پر ہی گولیاں مار دی گئیں۔
جبکہ ایک اور شخص، جو اپنی جان بچا کر تاویلہ قصبے پہنچنے میں کامیاب ہوئے، نے بتایا کہ راستے میں درجنوں لاشیں سڑک کنارے پڑی تھیں۔ وہ خود بھی سینکڑوں دیگر متاثرین کے ساتھ ایک عارضی کیمپ میں چٹائی پر تھکے ہارے لیٹے ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے RSF کی کارروائیوں کو "تشدد کا ایک خوفناک واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ کی گئی تو دارفور ایک "انسانی تباہی کے گڑھے” میں تبدیل ہو جائے گا۔
عالمی برادری نے سوڈان میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی رسائی اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب، مغربی کردفان کے علاقے میں بھی RSF اور سوڈانی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
ان جھڑپوں نے پورے خطے میں عدم استحکام بڑھا دیا ہے، جب کہ پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق الفاشر کی تباہی سوڈان کی خانہ جنگی کا نیا خطرناک موڑ ہے، جو نہ صرف ملک کے لیے بلکہ پورے افریقی خطے کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔