ترجمان نے افغان سوشل میڈیا پر داعش کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں ملکی و علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ باکو میں یومِ فتح کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ثالثوں کی نگرانی میں مذاکرات جاری ہیں، جن میں ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک اور ایڈیشنل سیکرٹری سید علی اسد گیلانی پاکستانی وفد میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات میں فی الحال کوئی ڈیڈ لاک نہیں، تاہم تکمیل تک کسی تبصرے سے گریز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
طاہر حسین اندرابی نے چمن واقعے پر افغانستان کے مؤقف کو حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کا آغاز افغان جانب سے ہوا، اور مثبت جائزے کے بعد ہی سرحد کھولنے پر بات کی جا سکتی ہے۔
ترجمان نے بھارتی میڈیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ کسی ملک کے خفیہ ادارے سے ملاقات کی اور نہ ہی غزہ کے معاملے پر کسی سے مالی امداد مانگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا بے بنیاد خبروں کے لیے مشہور ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2400 ہندو یاتریوں کو ویزے جاری کیے ہیں، جبکہ چند یاتریوں کو نامکمل دستاویزات کے باعث واپس بھیجا گیا۔ دستاویز مکمل ہونے پر انہیں بھی ویزا فراہم کیا جائے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کے دورے کے دوران مسلم ممالک کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کو دوہرایا۔ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر پاک-ترکیہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی، اور گرائے گئے طیاروں کی تعداد وہی ہے جو پہلے بتائی گئی تھی۔ بھارت کی جنگی تیاریوں کے مقابلے میں پاکستان کی عسکری تیاریوں کو جدید قرار دیا۔
ترجمان نے افغان سوشل میڈیا پر داعش کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔