وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کے مسودے کی منظوری دے دی
وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملک میں ایک نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے، ججز کے تبادلے اور تقرری کے اختیارات جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دینے کی تجویز شامل ہے۔
مجوزہ آئینی عدالت وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات، آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی، جبکہ چیف جسٹس آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال ہوگی۔
بل کے مطابق آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسزکا اضافی عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئرفورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے اعزازی رینکس، مراعات اور وردی کو تاحیات برقرار رکھنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ وزیراعظم آرمی چیف کی سفارش پر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ کا تقرر کریں گے۔
ترمیمی بل میں سینیٹ ارکان کی مدت میں تاخیر شدہ عرصہ شامل کرنے، ملک بھر میں سینیٹ انتخابات ایک ہی وقت میں کرانے، وزیراعظم کے مشیروں کی تعداد پانچ سے بڑھا کر سات کرنے اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی تجویز کو بھی 27ویں آئینی ترمیم کے ساتھ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں زیرِ غور لانے پر اتفاق ہوا ہے، حکومت نے ایم کیو ایم کے بل کی حمایت کا عندیہ دے دیا۔