ستائیسویں آئینی ترمیم ہے کیا؟
اسلام آباد (ارسلان خان سدوزئی) — پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک اہم موڑ، سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے ستائیسویں آئینی ترمیمی بل منظور کرلیا ہے، جس کے تحت ملک کے سیاسی و عسکری ڈھانچے میں کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔
ترمیم کے مطابق "چیف آف ڈیفنس فورسز” کا نیا آئینی عہدہ قائم کیا گیا ہے جو آرمی چیف کے پاس ہوگا، جب کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے، جس کا مقصد تینوں مسلح افواج میں بہتر ہم آہنگی اور متحد کمانڈ کا قیام بتایا جا رہا ہے۔
آئینی عدالت کا قیام
ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی بھی منظوری دے دی گئی ہے جو آئینی تنازعات کے حل کے لیے کام کرے گی۔ اس عدالت میں نو رکنی بینچ تشکیل دینے کی تجویز ہے جو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جگہ لے گا۔
اسی طرح سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال سے بڑھا کر 70 سال کرنے کی سفارش شامل کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے اختیارات میں تبدیلی
مجوزہ ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیار (سوموٹو) کو ختم کردیا گیا ہے، جب کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے معاملے میں صدر اور وزیراعظم کا کردار محدود جبکہ جوڈیشل کمیشن کا کردار بڑھا دیا گیا ہے۔
صدر مملکت کو تاحیات استثنیٰ
ستائیسویں ترمیم کے تحت صدرِ مملکت کو تاحیات استثنیٰ دینے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے مطابق صدر کے خلاف کسی بھی فوجداری یا سول کارروائی کا آغاز ان کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد بھی نہیں کیا جا سکے گا۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا نیا طریقہ کار
ترمیم میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہو جائے تو معاملہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا۔
این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی اختیارات
ترمیمی مسودے میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق کو صوبوں کے شیئر سے 10 فیصد اضافی حصہ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے شعبے دوبارہ وفاق کے ماتحت کرنے پر غور جاری ہے۔
مقامی حکومتوں سے متعلق تجاویز
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی فی الحال بلدیاتی اداروں کو مزید آئینی اختیارات دینے پر آمادہ نہیں، تاہم اس بارے میں مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی تجاویز کو ستائیسویں ترمیم میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم جلد ہی اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم وزیراعظم اور کابینہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مقامی حکومتوں سے متعلق ایم کیو ایم کی تجاویز سے اصولی اتفاق کیا۔‘‘
اپوزیشن رہنماؤں کا ردعمل
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے ترمیمی بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس آئینی ترمیم کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے مسودے کا خفیہ رکھا جانا ہے، جو شفاف قانون سازی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’’جب تک اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے جاتے، جمہوریت مکمل نہیں ہوسکتی۔ بڑے شہر جیسے کراچی اور لاہور مقامی اختیارات پر قابض ہیں، حالانکہ اٹھارہویں ترمیم میں واضح لکھا ہے کہ اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہوگا۔‘‘
آئندہ پیش رفت
پارلیمانی ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب قومی اسمبلی میں بھی منظوری کے مراحل باقی ہیں۔ اگر ایوان زیریں سے بھی دو تہائی اکثریت سے ترمیم منظور کرلی گئی تو آئینی ڈھانچے میں یہ اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی شمار کی جائے گی، جس کے اثرات ملک کے عسکری، عدالتی اور سیاسی نظام پر دور رس ہوں گے۔