کشمیر 25
راولپنڈی ۔۔
راولپنڈی آرٹس کونسل میں نمل کشمیر کونسل کے زیر اہتمام سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔ سیمینار میں معروف کشمیری رہنما غلام نبی فائی اور وزیر اعظم کے مشیر سردار یاسر الیاس نے شرکت کی ۔ سیمینار میں حریت کانفرنس کے رہنماوں اور مختلف یونیورسٹیز کے طلباء کی بھی شرکت کی ۔
کشمیری رہنما غلام نبی فائی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ منموہن سنگھ نے تہاڑ جیل مین مقید یاسین ملک سے مذاکرات کئے۔منموہن سنگھ نے یاسین ملک سے مسلہ کشمیر پر تعاون مانگا تھا۔اب نریندر مودی یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی تیاری کررہا ہے۔کشمیری عوام نے تاریخ کے بدترین مظالم برداشت کئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم پاکستان اور آزاد کشمیر کی عوام کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستانی اور کشمیری ڈائیسپورا نے ہمیشہ کشمیریوں کی آواز بلند کی ہے۔ ہمیں غزہ کے مسلمانوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیئے۔ فیلڈ مارشل کی براہ راست رسائی صدر ٹرمپ تک ہے۔ انشاء اللہ کشمیریوں کے مظالم جلد ختم ہونے والے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر رہنما حمید لون نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر عالمی برداری خاموش نہ رہے اس دیرینہ مسئلے کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے ۔ سیمینار میں کشمیری آرٹ اور ثقافت کی نمائش بھی کی گئی ۔ مختلف اشیائے اور ملبوسات پر مبنی سٹالز لگائے گئے ۔
مریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کو نیوکلیئر فلیش پوائنٹ قرار دیا
معروف سفارتکار سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی مسلہ کشمیر میں دلچسپی اہم ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کو اب پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔ کشمیر کی آزادی کی شمع اب نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ فلسطین میں 70 ہزار لوگ شہید ہوئے۔ کشمیر میں 1947 سے اب تک پانچ لاکھ لوگ شہید ہوئے۔ اہل مقبوضہ کشمیر نے 1947 سے بھارت کی 10 لاکھ مسلح افواج کو بے بس کیا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ امریکہ کے صدر نے کشمیر کے مسلے کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کو نیوکلیئر فلیش پوائنٹ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے سفارتکاری کے دروازے کھلے ہیں۔ مایوسی کا بیانیہ اب دم توڈ چکا ہے۔ افواج پاکستان نے ہندوستان کے تمام ابہام دور کردئیے ہیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہے۔
پہلے معاشی حالات بہتر کریں
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلہ کشمیر پر پاکستان اور آزاد کشمیر کی عوام سے بہت امیدیں میں وابستہ ہیں۔ ہماری عزت پاکستان سے ہے۔ جن لوگوں نے ساری زندگی باہر گزاری انہیں آج کہا جاتا ہے آپ واپس اپنے ممالک جائیں۔ پاکستان میں حالات بہتری کی جانب جارہے ہیں۔ سیاحت کی فیلڈ میں 47 لاکھ نوکریاں اس وقت موجود ہیں۔ پاکستان میں ہر شعبے میں پوٹینشل موجود ہے۔ سیاحت کے فروغ کیلئے ہم نے باہر سے بھی ماہرین لائے ہیں۔ آزاد کشمیر میں سیاحت اور فارمنگ میں بہت اسکوپ ہے۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے اسکو آگے لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی قوم باشعور قوم ہے۔ ہمیں پہلے خود کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے۔ ہمیں آزاد کشمیر میں سیاحت کیلئے مواقع پیدا کرنے ہیں۔ آزاد کشمیر کے نوجوانوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں مقبوضہ کشمیر کی عوام کیلئے آواز اٹھانی ہے اسے غافل نہیں۔ ہمیں کشمیریوں کی آواز اٹھانے کے ساتھ آزاد کشمیر کی ترقی پر بھی توجہ دینی ہوگی۔