بھارت یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ “اندرونی” ہے۔
تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر ولید رسول
بھارت کشمیر کے معاملے میں سب سے بڑا دعویٰ آئین کا کرتا ہے—مگر سب سے بڑا انکار بھی آئین ہی کا کرتا ہے۔ کشمیر میں مسئلہ یہ نہیں کہ آرٹیکل 370 ختم کیا گیا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی ریاست نے اپنے ہی آئین کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ یہ آئینی عمل نہیں تھا، بلکہ آئین کے نام پر آئین کا قتل تھا۔
بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 کوئی رعایت نہیں تھا، بلکہ ایک معاہداتی شق (Compact Provision) تھی، جو الحاق کے متنازع، مشروط اور غیر حتمی ہونے کا آئینی اعتراف تھی۔ اسی لیے آرٹیکل 370(3) واضح طور پر کہتا ہے کہ اس کی منسوخی کے لیے ریاستی دستور ساز اسمبلی کی سفارش لازمی ہے۔
یہ اسمبلی 1957ء میں تحلیل ہو چکی تھی۔
قانونی طور پر، یہ شق خود بخود ناقابلِ تنسیخ بن چکی تھی۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے بھارتی ریاست کبھی ایمانداری سے جواب نہیں دیتی۔
5 اگست 2019ء کو بی جے پی حکومت نے آئینی خلا کو طاقت سے پُر کیا۔ پہلے آرٹیکل 356 کے تحت ریاست کو معطل رکھا گیا، پھر گورنر کو ریاستی حکومت کا مترادف بنا کر صدرِ بھارت کی منظوری حاصل کی گئی۔ یوں منتخب نمائندگی کی عدم موجودگی کو خود ریاست نے پیدا کیا، اور اسی عدم موجودگی کو جواز بنا کر فیصلہ مسلط کیا گیا۔
یہ آئینی چال نہیں، آئینی جعل سازی تھی۔
بھارتی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پارلیمنٹ کو آرٹیکل 368 کے تحت آئین میں ترمیم کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ مگر بھارتی سپریم کورٹ خود Kesavananda Bharati Case میں یہ طے کر چکی ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے Basic Structure کو تبدیل نہیں کر سکتی۔
وفاقیت، جمہوریت، عوامی نمائندگی اور آئینی معاہدات—یہ سب Basic Structure کا حصہ ہیں۔
کشمیر کی آئینی حیثیت انہی اصولوں کا عملی اظہار تھی۔
اسے ختم کرنا محض ایک آرٹیکل کی منسوخی نہیں، بلکہ Basic Structure کی توڑ پھوڑ تھی۔
اگر بھارتی حکومت یہ کہتی ہے کہ کشمیر بھارت کا “اٹوٹ انگ” ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ:
- سات دہائیوں تک خصوصی آئینی حیثیت کیوں؟
- اقوامِ متحدہ میں استصوابِ رائے کا وعدہ کیوں؟
- UNCIP قراردادوں کو تسلیم کیوں کیا گیا؟
- اور آرٹیکل 370 کو “عارضی” کہہ کر مستقل کیوں رکھا گیا؟
یہ سب تضادات نہیں، ریاستی بددیانتی کے شواہد ہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ کی خاموشی بھی آئینی نہیں، سیاسی ہے۔ جب آٹھ ملین انسانوں کو بغیر فردِ جرم اجتماعی قید میں رکھا گیا، جب آرٹیکل 19 (اظہار، نقل و حرکت)، آرٹیکل 21 (زندگی و آزادی) اور آرٹیکل 14 (مساوات) معطل ہوئے—تب عدالت کا “وقت مانگنا” دراصل ریاست کو وقت دینا تھا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں بھارتی آئین پیچھے ہٹتا ہے اور ارتھ شاستر آگے آتا ہے۔
چانکیہ کا ارتھ شاستر واضح کہتا ہے:
جب مقصد اعلیٰ ہو تو دھوکہ، تاخیر، قانون اور طاقت سب جائز ہیں۔
بھارتی ریاست نے اسی فلسفے کو جدید آئینی زبان میں نافذ کیا—
قانون کو بطور فریب، عدالت کو بطور تاخیر، اور فوج کو بطور فیصلہ۔
یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں آرٹیکل پہلے، آرمی بعد میں نہیں آئی—بلکہ آرمی ہمیشہ فیصلہ کن رہی، آرٹیکل محض کور۔
بھارت یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ “اندرونی” ہے۔ مگر داخلی معاملے میں:
- سات لاکھ فوج کیوں؟
- کالے قوانین کیوں؟
- میڈیا بلیک آؤٹ کیوں؟
- اور بین الاقوامی سفارت کاری اتنی بے چین کیوں؟
سچ یہ ہے کہ کشمیر بھارت کا آئینی مسئلہ نہیں، نوآبادیاتی پراجیکٹ ہے—اور ہر نوآبادی میں آئین نہیں، طاقت بولتی ہے۔
مگر تاریخ کا اصول اٹل ہے:
جو ریاست آئین کو بندوق کے نیچے رکھے،
وہ وقتی فتح تو حاصل کر سکتی ہے—
مگر اخلاقی، قانونی اور تاریخی شکست اس کا مقدر بنتی ہے۔
کشمیر میں آرٹیکل دفن ہو سکتے ہیں،
فوج تعینات ہو سکتی ہے،
اور ارتھ شاستر فیصلہ سنا سکتا ہے—
مگر حقِ خودارادیت کو آئین، فوج یا فلسفہ ختم نہیں کر سکتا۔
کشمیر کا قضیہ وہ مقدمہ ہے جسے بھارت اپنی عدالتوں میں جیتنے کی خواہش رکھتا ہے، مگر عالمی عدالتِ رائے میں، اقوامِ متحدہ کے فیصلوں میں، بین الاقوامی قانون کی شہادت میں، انسانی ضمیر کی عدالت میں، اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کے دلوں اور اجتماعی شعور میں وہ فیصلہ کن طور پر ہار چکا ہے۔ آج اگر بھارت کے پاس کچھ باقی ہے تو وہ صرف ڈی فیکٹو کنٹرول ہے—وہ کنٹرول جو بندوق کے زور، فوجی محاصرے اور غیر معمولی طاقت پر قائم ہے۔ اس کے مقابل کھڑی ہے کشمیریوں کی وہ مزاحمت، استقامت اور تاریخی حوصلہ جو ہر محاصرے کو بے معنی، ہر قانون کو بے اثر اور ہر قبضے کو عارضی ثابت کرتی چلی آ رہی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: طاقت وقتی طور پر راستہ روک سکتی ہے، مگر حق کے سفر کو ختم نہیں کر سکتی۔