اسلام آباد میں 29 ہزار سے زائد درخت ہٹا دیے گئے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولن الرجی سے متاثرہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت نے ایک جامع اور تاریخی مہم کا آغاز کر دیا ہے
جس کے تحت اب تک 29 ہزار 115 پیپر ملبری (جنگلی شہتوت) کے درخت ہٹا دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام پولن الرجی کے مریضوں کے دیرینہ مطالبے پر کیا گیا ہے، کیونکہ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں اسلام آباد کی تقریباً 37 فیصد آبادی پولن الرجی سے متاثر ہوتی ہے۔
عدالتی احکامات کے تحت جنگلی شہتوت کے درخت نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ جنگلی شہتوت پولن الرجی کا بڑا سبب ہے، اس لیے ان درختوں کو مرحلہ وار ختم کرکے ان کی جگہ ماحول دوست درخت لگائے جائیں۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی جبکہ وزیراعظم آفس کی جانب سے بھی باقاعدہ ڈائریکٹو جاری کیا گیا۔
کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے انوائرمنٹ ونگ نے 20 ہزار نئے درخت لگانے کیلئے ٹینڈر نوٹس جاری کر دیا ہے، جبکہ نجی شعبے اور او جی ڈی سی کے تعاون سے مزید 18 ہزار درخت لگانے کیلئے بھی علیحدہ ٹینڈر جاری کیا جا چکا ہے۔
تاہم اس مہم کے دوران بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ سی ڈی اے ذرائع کے مطابق جس ٹھیکیدار کو جنگلی شہتوت کے درخت کاٹنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا، اس نے 3 سے 4 ایکڑ کے رقبے پر جنگلی شہتوت کے ساتھ ساتھ وہاں موجود دیگر تمام درخت بھی کاٹ دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً چار ایکڑ کا علاقہ مکمل طور پر درختوں سے خالی کر دیا گیا اور یہ کٹائی بغیر کسی مارکنگ یا شناخت کے کی گئی۔
وزارت صحت کے مطابق شکرپڑیاں میں 81 ایکڑ رقبے پر بحالی اور شجرکاری کا کام اپریل تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور گزشتہ دو سال کے دوران پولن ویکسی نیشن کیسز میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ شجرکاری اور ماحول دوست اقدامات کے ذریعے نہ صرف پولن الرجی پر قابو پایا جائے گا بلکہ وفاقی دارالحکومت کے ماحولیاتی توازن کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔