آئے دن موبائل سیلفی لینے کا رواج کیوں عام ہو رہا ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں موبائل فون کے ذریعے سیلفی لینے کا رجحان غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ گلی محلوں سے لے کر سیاحتی مقامات، تقریبات اور یہاں تک کہ دفاتر تک، ہر جگہ لوگ خود کو کیمرے میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ رجحان صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر عمر کے افراد اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اس رجحان کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز نے تصویر کو اظہارِ ذات کا اہم ذریعہ بنا دیا ہے۔ لائکس، کمنٹس اور فالوورز کی دوڑ نے سیلفی کو مقبولیت کی علامت بنا دیا ہے، جہاں ایک اچھی تصویر لمحوں میں انسان کو توجہ کا مرکز بنا دیتی ہے۔
ٹیکنالوجی میں جدت نے بھی سیلفی کلچر کو فروغ دیا ہے۔ جدید اسمارٹ فونز میں ہائی ریزولوشن فرنٹ کیمرے، فلٹرز اور ایڈیٹنگ فیچرز نے ہر شخص کو باآسانی فوٹوگرافر بنا دیا ہے۔ اب کسی خاص کیمرے یا مہارت کی ضرورت نہیں، ایک بٹن دبانے سے تصویر تیار ہو جاتی ہے۔
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلفی لینا خود اعتمادی، شناخت اور قبولیت کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی خوشی، کامیابی یا روزمرہ کے لمحات کو محفوظ کر کے دوسروں سے شیئر کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ خود کو معاشرے کا فعال حصہ محسوس کر سکیں۔ تاہم حد سے زیادہ سیلفی لینے کی عادت بعض اوقات خود نمائی یا عدم اطمینان کی علامت بھی بن سکتی ہے۔
دوسری جانب سماجی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سیلفی کلچر کے منفی پہلو بھی ہیں۔ خطرناک مقامات پر سیلفی لینے کے واقعات، پرائیویسی کے مسائل اور حقیقی زندگی کے لمحات سے دوری جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سیلفی کو تفریح اور یادگار لمحات تک محدود رکھا جائے تاکہ یہ عادت فائدے کے بجائے نقصان کا سبب نہ بنے۔