ایران میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے
ایران میں جمعرات شام سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے ملک بھر میں شدت اختیار کر لی ہے، اور سڑکیں بلاک کرنے والے مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔ مظاہرے اب ایران کے تمام 31 صوبوں میں پھیل چکے ہیں، جن میں تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان خاص طور پر شامل ہیں۔
مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں اور بازاروں میں کام کرنے والے تاجروں نے ہڑتال کا اعلان کر دیا، جس سے معاشی سرگرمیوں پر نمایاں اثر پڑا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق عوام کی بڑی تعداد مہنگائی اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے، اور ہر طبقے سے لوگ اس تحریک میں شریک ہیں۔
حکومت کی جانب سے مخلوط پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکورٹی فورسز کو انتہائی تحمل برتنے کی ہدایت کی ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ سڑکوں اور اہم چوراہوں پر سیکورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی احتجاج کی گونج سنائی دے رہی ہے، اور زیادہ تر صارفین کا خیال ہے کہ امریکہ اس کشیدگی میں ملوث ہے اور ایران میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، مقامی لوگوں کے نزدیک مہنگائی اور اقتصادی مشکلات ہی بنیادی وجہ ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مظاہرے ایران کی معاشی اور سیاسی صورتحال میں سنگین چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں، اور اگر حکومت فوری طور پر عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔