نئی دہلی ۔۔۔
بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کیخلاف بڑھتی نفرت کی وجہ سے آئے روز اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ ان واقعات میں ہندوو انتہاپسند جتھے عمومی طور پر نظر آتے ہیں جو کسی مسلمان ، کشمیری یا کسی عیسائی کو جے شری رام یا وندے مادرم کہلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس بار ایک ایسی واقعہ پیش آیا جس میں ہندو انتہا پسند لڑکیوں نے ایک مسلمان کلاس فیلو کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔
https://www.facebook.com/reel/1985469572348826/?s=single_unit
واقعہ کی ویڈیو
اسکول بس میں مذہبی بنیاد پر ہراسانی: ایک تشویشناک واقعہ
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں بھارت کے ایک تعلیمی ادارے کی اسکول بس کے اندر ایک تشویشناک منظر دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ایک مسلمان طالبہ کو حجاب پہنے بس میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ بس میں موجود دیگر طلبہ مبینہ طور پر ہندو مذہبی نعرے لگاتے نظر آتے ہیں۔ یہ نعرے طالبہ کی موجودگی اور اس کے مذہبی لباس کے ردعمل کے طور پر لگائے گئے، جسے کئی حلقوں نے مذہبی بنیاد پر ہراسانی قرار دیا ہے۔
واقعے کی نوعیت
بس ایک تعلیمی ادارے کی ہے، جہاں طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ایک مسلمان طالبہ حجاب پہنے خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھی ہے۔ دیگر طالبات اس کے لباس کو دیکھ کر مذہبی نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ مسلمان طالبہ کسی ردعمل کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، مسکراتی ہے اور صورتحال کو نظرانداز کر دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ایک کم عمر طالبہ کے لیے ذہنی اذیت کا سبب بن سکتا ہے بلکہ مجموعی طور پر تعلیمی ماحول پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
خاموش مزاحمت کی مثال
ویڈیو میں ایک اور اہم پہلو بھی نمایاں ہے۔ بس میں موجود ایک ہم جماعت طالبہ نعرے لگانے میں شامل نہیں ہوتی۔ وہ واحد لڑکی ہے جومذاق یا نفرت کا حصہ نہیں بنتی۔ وہ خاموشی اختیار کر کے خود کو اس عمل سے الگ رکھتی ہے۔ اس کی یہ خاموشی ایک طاقتور پیغام دیتی ہے کہ ہر خاموش شخص ظلم کا حامی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ظلم میں شامل ہونے سے انکار ہی سب سے بڑی مزاحمت بن جاتا ہے۔
اساتذہ اور اداروں کی ذمہ داری
ویڈیو میں ایک خاتون ٹیچر کا رویہ بھی زیرِ بحث آیا ہے، جن کی مسکراہٹ اور بار بار طالبہ کی طرف دیکھنا کئی لوگوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ
کیا تعلیمی ادارے اپنی طالبات کو رواداری اور احترام سکھا رہے ہیں؟
کیا اساتذہ نفرت پر مبنی رویوں کو روکنے کے بجائے نظرانداز کر رہے ہیں؟
تعلیمی ادارے علم کے مراکز ہوتے ہیں، نفرت کی نرسری نہیں۔ اساتذہ کا کردار صرف پڑھانا نہیں بلکہ اخلاقی تربیت بھی ہے۔
وسیع تر سماجی اثرات
ماہرین کے مطابق کم عمری میں نفرت پر مبنی رویوں کی تربیت معاشرے کو عدم تحفظ کی طرف لے جاتی ہے۔ مذہبی شناخت کو خوف یا مذاق کا نشانہ بنانا سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ حجاب یا کوئی بھی مذہبی لباس کسی کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ذاتی شناخت اور عقیدے کی علامت ہوتا ہے۔
نتیجہ
یہ واقعہ محض ایک بس یا ایک ویڈیو تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھارت میں تعلیمی اور سماجی نظام کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس واقعے میں خاموشی سے وقار کا مظاہرہ کرنے والی مسلمان طالبہ اور نفرت میں شامل نہ ہونے والی ہم جماعت واقعی عزت کی مستحق ہیں۔ ان کا رویہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت شور میں نہیں، بلکہ انسانیت میں ہے۔
یاد رہے اس سے پہلے بھی ایک سکول میں مسلمان طالبہ مسکان کو ہندو انتہاپسند لڑکوں نے حجاب پہننے پر ہراساں کیا تھا ۔ لیکن وہ تن تنہا نہ صرف ڈٹ کر کھڑی رہی بلکہ اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ثبوت دیا کہ ریوڈ کتنے بھی بڑا ہو شیرنی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔۔۔