اسلام آباد( مقصود منتظر) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماوں اورچیئرمین لبریشن فرنٹ یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کشمیرکے اسیر رہنما یاسین ملک کی سزا کے حوالے سے سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے یاسین ملک کا معاملہ انٹرنیشنل کورٹ میں لے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں کشمیر جرنلسٹس فورم کے زہر اہتمام ایک سیمینار میں جے کے ایل ایف کے ترجمان محمد رفیق ڈار اور نائب چیئرمین سلیم ہارون نے اپنے قائد یاسین ملک کی صحت اور ان پر عائد بے بنیاد الزامات کے کیس میں ہونے والی سزا پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ 28 جنوری کو بھارتی عدالت تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک کیخلاف فیصلہ سنائے گی ۔ یاسین ملک کی تین کیسز میں عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے جبکہ بھارتی این آئی اے نے اس سزا کو بڑھانے کی درخواست دے رکھی ہے جس پر اس ماہ کی اٹھائیس تاریخ کو فیصلہ متوقع ہے ۔ رفیق ڈار نے کہا ہے کہ مودی سرکار کے دور میں کچھ بھی ممکن ہے ۔ یاسین ملک پر جو الزامات لگائے گئے ہیں نہ ان کی جانچ کی گئی نہ ہی ان کے وکیل کو جرح کرنے کا موقع دیا گیا ۔ بھارت مقبول بٹ اور افضل گورو کی طرح کشمیر کی ایک اور آواز کو خاموش کرنا چاہتا ہے ۔

رفیق ڈار نے پاکستان کی حکومت اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ یاسین ملک کے معاملے کو سنجیدہ لے اور ایک کیس کو عالمی عدالت انصاف میں لے جائے، انسانی حقوق کے اداروں سے بھی رجوع کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے میں حکومت پاکستان کا کردار مایوس کن ہے، اگر مزید تاخیر اور خاموشی اپنائی گئی تو خدانخواستہ کوئی بڑا سانحہ ہوسکتا ہے اس لیے حکومت پاکستان ، وزارت خارجہ اور دیگر ادارے اس معاملے کو سنجیدہ لیں ۔
سوال جواب کی نشست کے دوران رفیق ڈار اور سلیم ہارون نے یاسین ملک کیخلاف کیس کی تفصیلی بریفنگ دی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ کیس انصاف کا قتل ہے ۔ یاسین ملک کو پہلا گرفتار کیا گیا اس کے کئی دن بعد پرچہ کاٹا گیا ۔ جب ان کے وکیل میاں طفیل پیش ہوئے تو عدالتوں نے انہیں بولنے تک کا موقع نہیں دیا ۔ اسی وجہ سے بعد میں یاسین ملک نے خود جرح کرنے کا فیصلہ کیا ۔

نشست کے دوران کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک اور ان کی بیٹی رضیہ سلطانہ نے بھی حکومت سے یاسین ملک کی زندگی کو بچانے کیلئے موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مشعال ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام یاسین ملک بچاو مہم میں بھرپور تعاون کررہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر وہ کردار نظر نہیں آرہا ہے جو تشویشناک ہے ۔مشعال ملک نے کہا ہے کہ یاسین ملک کی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور کشمیری ڈائسفورا اپنے تئیں بھرپور کوشش کرہے ہیں کہ بعض معاملات عالمی سطح پر لے جانے کے متمنی ہوتے ہیں یاسین ملک کا کیس بھی ایسا ہی ہے ۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ معاملے کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جائے ۔ انہوں نے یاسین ملک کی فیملہ کیلئے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کی بھی اپیل کی ہے ۔ مشعال ملک نے کہا ہے کہ یاسین ملک امن کے پیامبر ہیں وہ نہ صرف کشمیریوں کے لیڈر ہیں بلکہ اس پورے خطے میں امن کی امید ہیں ۔ مودی چاہتا ہے کہ وہ امن کی اس لیکر کو ہی ختم کیا جائے ۔ اس موقعہ پر کشمیری رہنما کی بیٹی رضیہ سلطانہ نے بھی عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے والد کی زندگی بچانے کیلئے آگے آئیں ۔

سیمینار میں سینئر صحافی بشیر عثمانی ،شہزاد راٹھور، بلال ڈار ،عابد عباسی ، خواجہ کاشف میر ، راجہ عثمان طاہر،سردار ندیم صدیق، خاور راجہ ،ڈآکٹر اشرف وانی ،عقیل انجم ،شیراز گردیزی، اقبال اعوان ، عمران اعظم ، خالد گردیزی ،ارشید میر ، عبدالطیف ڈار، چوہدری رفیق، ذیشان گردیزی ،لیاقت مغل، ظہور عالم ، سردار ندیم ، راجہ احسن ، عمر گردیزی ، نثار تبسم ، سردار فیاض ، سردار کبیر ، عبدالروف بزمی ،قاضی صغیر، اصغر حیات ، ظہیر مغل اور دیگر نے شرکت کی ۔
مقررین نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یاسین ملک کی گرفتاری، سزا اور ممکنہ پھانسی بھارتی حکومت کی ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد کشمیری سیاسی قیادت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی عدالتی نظام کشمیری عوام کے لیے انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور عدالتیں جبر اور انتقام کا ہتھیار بن چکی ہیں۔
سردار انوار خان ایڈووکیٹ نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کو سزائے موت دینا خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور یہ بھارت کے ٹوٹنے کی شروعات بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

آخر پر صدر کشمیر جرنلسٹس فورم عرفان سدوزئی کی جانب سے مذمتی قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس اس امر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے کہ بھارتی حکومت یاسین ملک کو ایک غیر شفاف، جانبدارانہ اور انتقامی عدالتی عمل کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یاسین ملک کشمیری عوام کے ایک تسلیم شدہ سیاسی رہنما ہیں اور ان کے خلاف کارروائی دراصل کشمیری عوام کی جائز جدوجہدِ حقِ خودارادیت کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ یاسین ملک کو سزائے موت دینا نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہو گی بلکہ اس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔کشمیر جرنلسٹ فورم اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، عالمی صحافتی اداروں اور مہذب عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ یاسین ملک کی ممکنہ سزائے موت کو روکا جائے۔