انسدادِ دہشت گردی قوانین کا غلط استعمال، آن لائن ہراسانی، ملازمتوں سے جبری برطرفیاں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں
تحریر وطن زیب یوسفزئی
صحافت کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کی روح سمجھی جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ روح طویل عرصے سے زخموں سے چور ہے۔ خاص طور پر بلوچستان جیسے حساس اور پسماندہ خطے میں صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف بن چکی ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی تازہ تحقیقی رپورٹ نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ بلوچستان میں آزاد صحافت تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں صحافیوں کو کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ جیسےعلیحدگی پسند اور مسلح گروہ ہیں جو اپنی مرضی کا بیانیہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ سیاسی و قبائلی اشرافیہ، بااثر افراد اور بعض اوقات مشتعل ہجوم بھی صحافیوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سچ لکھنا یا بولنا ایک مشکل نہیں بلکہ خطرناک عمل بن جاتا ہے۔ بلوچستان میں اکثر صحافی دوہری سنسرشپ کا شکار ہیں ایک ریاستی دباؤ اور دوسری غیر ریاستی عناصر کی دھمکیاں۔ اغوا، تشدد، قتل، جبری گمشدگیوں کی رپورٹس یا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کرنا صحافیوں کے لیے “ریڈ لائن” بن چکا ہے۔ نتیجتاً خود سنسرشپ عام ہو گئی ہے، اور عوام تک مکمل سچ پہنچنے سے پہلے ہی دب جاتا ہے۔
یہ صورتحال صرف بلوچستان تک محدود نہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان میں صحافت شدید بحران کا شکار ہے۔ صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات، انسدادِ دہشت گردی قوانین کا غلط استعمال، آن لائن ہراسانی، ملازمتوں سے جبری برطرفیاں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ میڈیا ادارے خود معاشی دباؤ کا شکار ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست صحافیوں پر پڑتا ہے۔دوسرا یہ کہ معلومات تک رسائی کا حق، جو آئینی طور پر تسلیم شدہ ہے، عملی طور پر بے معنی ہوتا جا رہا ہے۔ بعض سرکاری محکمے معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہیں، اور اگر کوئی صحافی سوال کرنے کی جسارت کرے تو اسے “غدار”، “ایجنٹ” یا “ریاست مخالف” قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس ماحول میں تحقیقاتی صحافت تقریباً دم توڑ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس اندھیرے میں روشنی کی کوئی کرن باقی ہے؟
امید اب بھی موجود ہے، مگر اس کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی، میڈیا اداروں کی معاشی آزادی، سنسرشپ کے خاتمے، اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت کو فروغ دینا ہوگا۔ ریاست، اداروں اور معاشرے کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آزاد صحافت ریاست کی دشمن نہیں بلکہ اس کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اگر صحافی محفوظ نہیں ہوں گے تو سچ محفوظ نہیں رہے گا، اور اگر سچ دب گیا تو جمہوریت محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جائے گی۔ بلوچستان کی صورتحال دراصل پورے پاکستان کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر صحافت کا گلا گھونٹا جاتا رہا تو اس کے نتائج پورا معاشرہ بھگتے گا۔