سری نگر کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی نشانداہی
سری نگر: دو سال قبل گندبال سری نگر میں پیش آنے والے المناک کشتی حادثے کے بعد مقامی کمیونٹی میں آج بھی غم کی فضا موجود تھی، جس میں آٹھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اتوار کے روز جھیلِم کے کنارے ریت میں ایک انسانی پاوں کے آثار دریافت ہوئے، جسے شبہ ہے کہ وہ 40 سالہ ماہر بناوٹ شوکت احمد شیخ کا ہے، جو 16 اپریل 2024 کو پیش آنے والے کشتی کے الٹ جانے کے واقعے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔
واقعے کے بعد مقامی لوگوں اور متاثرہ خاندانوں میں مایوسی اور شدید غم چھایا ہوا تھا، لیکن اس دریافت سے خاندان اور علاقے کے رہائشیوں میں امید کی کرن دوڑ گئی ہے کہ شاید شوکت احمد شیخ کے بارے میں کچھ سننے کو ملے۔
مقامی حکام اور ماہرین نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر شواہد کی تصدیق شروع کر دی ہے اور ریت میں پائے جانے والے انسانی اعضا کی تحقیق کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ یہ آثار واقعی شوکت احمد شیخ کے ہیں یا کسی اور فرد کے۔
یہ حادثہ سری نگر کے گندبال علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں کشتی الٹنے کے نتیجے میں آٹھ افراد میں سے سات ہلاک ہو گئے تھے اور صرف ایک بچ جانے والا تھا۔ اس حالیہ دریافت سے متاثرہ خاندان کو ممکنہ انصاف اور آخری رسومات کے لیے راہ ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت کم از کم ایک نئے باب کی شروعات ہو سکتی ہے اور گمشدہ افراد کے لواحقین کو کچھ سکون فراہم کر سکتی ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ تلاش جاری رہے گی اور جو بھی معلومات حاصل ہوں گی، فوری طور پر متعلقہ خاندانوں سے شیئر کی جائیں گی۔