ہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع ہو گیا ہے۔ یہ اقدامات ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں
واشنگٹن، 11 جنوری ۔۔۔۔۔۔۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مختلف فوجی آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع ہو گیا ہے۔ یہ اقدامات ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق صدر ٹرمپ کو ممکنہ اہداف کی فہرست پیش کی گئی ہے، جس میں ایران کی سکیورٹی فورسز کے وہ عناصر بھی شامل ہیں جو مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم، خطے میں تعینات امریکی فوجی کمانڈرز نے بتایا ہے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل امریکی فوجی پوزیشنز کو مضبوط کرنا اور دفاعی تیاری مکمل کرنا ضروری ہے کیونکہ اس سے ایران کی جانب سے جوابی ردِعمل ممکن ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ایران نے حال ہی میں جوہری معاہدے پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے اور امریکہ ان سے ملاقات کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ آپریشن میں سائبر حملے اور نئی پابندیاں بھی زیر غور ہیں۔ امریکی اخبارات نے واضح کیا ہے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد جاری رکھتی ہے اور انہیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکہ ان کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ممکنہ امریکی کارروائی کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ دی یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل اس امکان کے پیش نظر چوکس ہے کہ امریکہ ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو خط لکھ کر امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری ایران کے اندرونی مظاہروں اور ممکنہ بیرونی مداخلت کو انتہائی نزدیک سے دیکھ رہی ہے۔