کراچی، گل پلازہ آتشزدگی، 5 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی
کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی شدید آگ کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق آگ پر 77 فیصد قابو پا لیا گیا ہے تاہم عمارت کی حالت انتہائی مخدوش ہونے کے باعث آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فائر فائٹرز آگ لگنے کے 24 گھنٹے بعد آتش زدہ عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جہاں جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔ ریسکیو ورکرز اندر موجود ممکنہ افراد کو پکار پکار کر زندگی کے آثار تلاش کرتے رہے، تاہم کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے چھ افراد میں سے چار کی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ آفس ساؤتھ کی قائم ہیلپ ڈیسک پر 34 لاپتا افراد سے متعلق شکایات درج کرائی گئی ہیں۔ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ میزنائن فلور پر لگنے والی آگ پلازہ کے بیسمنٹ تک پہنچ گئی تھی، جس کے باعث آگ بجھانے کا عمل طول پکڑ گیا۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق پلازہ میں موجود بڑی مقدار میں جلن پذیر مواد، کمرشل سرگرمیوں اور سامان کی نوعیت کے باعث آگ پر قابو پانے میں غیر معمولی وقت لگا۔ مزید واٹر ٹینکر طلب کر لیے گئے ہیں تاہم فائر بریگیڈ گاڑیوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا رہا، جس پر علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت واٹر ٹینکر منگوائے۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ڈی جی رینجرز کی خصوصی ہدایت پر رینجرز کے دستے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ ترجمان واٹر کارپوریشن نے بتایا کہ نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
گل پلازہ میں آگ بجھانے کا عمل 27 گھنٹے گزرنے کے باوجود جاری ہے، جبکہ ریسکیو عملے نے ممکنہ متاثرین کی تلاش کے لیے تھرمل کیمرے بھی نصب کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق عمارت کی مخدوش حالت کے پیش نظر ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری رکھا جا رہا ہے۔