کشمیر ویٹ اینڈ سی
مظفرآباد۔۔۔
بیلجیم سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فوٹو گرافر و مصنف سینڈرک گربہائے(Cedric Gerbehaye) کی کتاب "Kashmir wait and see” کی مظفرآباد میں رونمائی ہوئی ہے ۔کتاب میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی روز مرہ زندگی کی ثقافت کے ساتھ ساتھ انکی حالات زار کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ کتاب کی رونمائی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں سسکتی زندگی کو اجاگر کرتی سیڈرک کی کھینچی گئی تصاویر کی نمائش کا اہتمام بھی گیا تھا ۔۔
وزیراعظم آزاد کشمیرفیصل ممتاز راٹھور نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے مصنف و بین الاقوامی فوٹو جرنلسٹ سیڈرک گربیہائے کی کتاب “Kashmir – Wait and See” میں کشمیر سے متعلق شائع تصاویر کا معائنہ کیا اور مصنف کے فن کو سراہا۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم جبر روز بروز بڑھ رہا ہے بھارت بدمست ہاتھی کی طرح مقبوضہ کشمیر میں ہر چیز کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے.
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا ہے کہ سنڈرک گربہیائے کی کتاب اور فوٹو گرافی مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورت حال کی عکاس ہے ۔کشمیری عوام کی قربانیاں، ہجرتیں، فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی نوعیت اور اس کے حل کی ضرورت کو تسلیم کیا جا سکے۔وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں، عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ خطے میں دیرپا امن اور انصاف کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔
اس موقع پر خطاب کے دوران Kashmir wait n see کے مصنف سیڈرک گربیہائے کا کہنا تھا کہ یہ کتاب اور تصویری سلسلہ ان کی کئی برسوں کی محنت کا مظہر ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کی زندگی، احساسات اور انسانی حقوق کی صورتحال کو دنیا کے سامنے لانا ہے انہوں نے کہا فوٹوگرافی دو طرفہ ابلاغ کا ذریعہ ہے جو دیکھنے والے کو حقیقت کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع دیتی ہے، اور یہ کاوش ایک بہتر اور پرامن مستقبل کی جانب مثبت قدم ثابت ہوگی۔
کوآرڈینیٹر کشمیر کونسل یورپی یونین و منتظم تقریب علی رضا سید نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اس کتاب کی تکمیل میں تقریباً آٹھ سال لگے، اس نمائش کا مقصد مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوامی حالات کو بصری انداز میں دنیا کے سامنے لانا اور نئی نسل کو آگاہی فراہم کرنا ہے
انہوں نے کہا کہ تصاویر خود بولتی ہیں، اور نمائش کو یورپ کے مختلف دارالحکومتوں میں بھی پیش کیا جا رہا ہے۔اس موقع وزراء سیاسی و سماجی شخصیات کے علاؤہ سکولوں کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے بھی نمائش دیکھی اور مصنف نے انہیں اپنی کتاب اور تصاویر کے بارے تفصیلات سے آگاہ کیا