اسلام آباد:
قائمقام امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان ایڈوکیٹ مشتاق خان نے کہا کہ صحافی برادری مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، بھارت اور اسرائیل مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کررہے ہیں،جمات اسلامی 5فروری پوری دنیا میں بھرپورا نداز سے یوم یکجہتی کشمیر منائے گی،شکست بھارت کامقدر ہے، کشمیری عوام نے عملا دس لاکھ قابض بھارتی افواج کو شکست دے دی ہے،کشمیری عوام نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہے اب تحریک آزادی کشمیر کو منزل سے ہمکنار کرنے کیلئے اسلام آباد، مظفر آباد گلگت نے کردار ادا کرنا ہے ۔پاکستان سلامتی کونسل کا ممبر ہونے کے ناطے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرائے ،حکومت پاکستان تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے ایک نائب وزیر خارجہ کا تقرر عمل میں لاکر فارن ڈیسک منظم اور مربوط کرے،عالمی سطح پر جو بڑے ممالک ہیں ان کیساتھ روابط بڑھا کر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقدامات کرائے۔ان خیالات کا اظہار ایڈوکیٹ مشتاق احمد خان نے آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے صحافیوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

اس موقع پر مرکزی نائب امیر نور الباری ‘ قائم مقام سیکرٹری جنرل ایڈوکیٹ قاضی شاہد حمید ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالسمیع اور دیگر قائدین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب سے سردار حمید،خاور نواز راجہ، راجہ بشیر عثمانی،عبدالطیف ڈار’ ضیاء منظور’ مقصود منتظر ‘ اویس بلال’ شہزاد منیر اور دیگر صحافیوں نے بھی گفتگو کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشتاق احمد خان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے روز اول سے تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ادا کرکے اپنا لہو بھی پیش کیا ہے۔ ان شائاللہ صبح آزادی تک جماعت اسلامی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کیلئے اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔جماعت اسلامی وحد ت کشمیر اور حق خود ارادیت پر کوئی کمپرومائز نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے کشمیری عوام کا حق خود ارادیت تسلیم کر رکھا ہے عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حق حق خود ارادیت فراہم کرے،انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر کے اندر نریندر مودی اور اس کی سفاک افواج نے مظالم کی انتہا کر دی ہے،قابض فوجی کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔جس کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔تاکہ اہل کشمیر بھی آزاد فضائوں میں سانس لے سکیں۔