محمد دیپک ۔۔۔بن گیا حقیقی بجرنگی بھائی جان
تحریر۔۔۔ مقصود منتظر
میرا نام محمد دیپک ہے۔۔ میرا دھرم انسانیت ہے اور میرا مشن ایک دیا یا چراغ کی طرح روشنی پھیلانا ہے، میں اپنا پیغام موسیقی میں اس مخصوص راگ (دیپک راگ) کی طرح دور دور تک پہنچانا چاہتا ہوں ۔۔۔
ہندو نوجوان دیپک کمار کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ کم پڑ رہے ہیں کیونکہ اس نے جو کام کیا وہ بہت بڑا ہے اور تاریخی و قابل تقلید ہے ۔
میرا نام محمد دیپک ہے۔۔ جی ہاں محمد دیپک ۔۔ خبردار آگے بڑے تو ۔۔۔
یہ الفاظ بھارتی ریاست اترکھنڈ کے ہندو نوجوان دیپک کمار کے ہیں ۔ دیپک نے اس وقت جان پر کھیل کر یہ جملہ بولا جب اترکھنڈ کی ایک مارکیٹ میں بزرگ مسلمان دکاندار کی دکان بجرنگ دل کے غنڈوں کے گھیرے میں تھی اور وہ بزرگ کومسلسل دکان کی بورڈ اتارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے ۔ بابا خاموش تھا ۔ وہ نا نہیں کرسکتا تھا۔ اسے بورڈ سے زیادہ اپنی جان کی فکر کھائی جارہی تھی کیونکہ ہندوو انتہا پسند ہاتھوں میں اٹھائے ڈنڈوں کی پیاس اس بزرگ کے خون سے بجھانا چاہتے تھے ۔ جیسا کہ چند روز قبل اسی بجرنگ دل کے چند غنڈوں نے دو کشمیری لڑکوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہونے کا خدشہ بڑھ رہا تھا ۔ آس پاس کے لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے لیکن ان کو بھی معلوم تھا کہ آج اس مارکیٹ کے مسلمان دکاندار شاید جان بچا نہیں پائیں گے ۔ صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی تھی اور عین اسی دوران دیپک کمار نامی نوجوان نے ایک ہیرو کی طرح انٹری ماری ۔۔۔
بجرنگ دل سے وابستہ افراد بزرگ دکاندار کی دکان میں داخل ہوئے اور دکان کے نام ۔۔ بابا۔۔ پر اعتراض کیا۔ دکاندار نے وضاحت کی کہ ان کا اصل نام پہلے ہی بورڈ پر درج ہے، مگر اس کے باوجود نام بدلنے پر زور دیا گیا۔
اسی دوران دیپک نے موقع پر پہنچ کر مداخلت کی اور مطالبے کی کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ دکان کا نام نہیں بدلا جائے گا، کیونکہ انسانیت سب سے بالا ہے اور معاشرے کو نفرت نہیں بلکہ محبت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ ان کے مضبوط مؤقف کے بعد وہاں موجود افراد موقع سے چلے گئے اور ہراسانی کا سلسلہ بغیر کسی نقصان یا تشدد کے ختم ہو گیا۔
اردو اخبار منصف کے مطابق واقعے کی اہم بات یہ ہے کہ بزرگ دکاندار طویل عرصے سے ۔۔بابا۔۔ کے نام سے کاروبار کر رہے تھے اور تنازع صرف نام بدلنے کے مطالبے پر کھڑا ہوا۔ دیپک نے نہ صرف بزرگ شخص کا ساتھ دیا بلکہ پرسکون اور مضبوط انداز میں صورتحال کو قابو میں لانے میں کامیابی حاصل کی۔ یوں دپیک نے محمد دیپک کی روپ میں اصلی بجرنگی بھائی کا فریضہ انجام دیا ۔ اس نے نہ صرف ایک کمزور اور پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھنے والے انسان کی دکان بچائی بلکہ ایک دیا اور چراغ بن کر اپنے نام کا لاج رکھ دیا ۔
مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین نے دیپک کے اقدام کو جرأت اور سماجی ذمہ داری کی بہترین مثال قرار دیا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ پُرامن اور مضبوط موقف اپنانے سے ہراسانی کو روکا جا سکتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو بچایا جا سکتا ہے۔
دیپک اور۔۔بابا۔۔ نامی دکاندار سے جڑا یہ واقعہ اب ایک یاد دہانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ فردِ واحد کی جرأت اور انسانیت کا احترام حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔