اقبال
آہ ،۔۔ اقبال ،، تجھے اورجینا چاہیے تھا ۔۔ ابھی کیوں آنکھیں بند کرلیں۔۔ موت کو یوں اچانک لبیک کیوں کہہ دیا۔۔ لیکن موت تو اٹل ہے ۔ وہ کہتے ہیں
زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنے چلتے ہیں کہ مرجاتے ہیں
دل اداس ہے ، آنکھیں نم ہیں اور جسم میں کپکپی ۔۔ جب سے اقبال کی موت کی خبر سنی ۔۔۔ ہاتھ پاوں سن سے ہوگئے۔
آج اسلام آباد میں ایک اور کشمیری مہاجر آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے چل بسا ۔ حزب المجاہدین سے وابستہ قیصر احمد میر المعروف محمد اقبال، ساکنہ بنڈزو، پلوامہ (حال مقیم ترلائی، اسلام آباد) وفات پا گئے۔ مرحوم کو دو ماہ قبل موذی مرض کینسر لاحق ہونے کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد وہ صبر و استقامت کے ساتھ اس آزمائش کا سامنا کرتے رہے، حتیٰ کہ ربِ کریم نے اُنہیں اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔
اقبال سے میرا زیادہ علیک سلیک نہیں تھا لیکن وہ جب بھی ملتا تھا، یوں لگتا تھا ہے کہ کیونکہ اپنا سا ہے ۔ سلام دعا کے بعد وہ ہاتھ نہیں چھوڑتا تھا ۔خیریت اور حوال احوال بار بار پوچھنا یہ ان کی عادت تھی ۔ ان کا نرم لہجہ انسان کو پگھلادیتا تھا ۔۔ سادگی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا ۔ واقعی بہت ہی پیارا انسان تھا ۔ لیکن ہائے ۔۔ یہ پردیس ، اپنوں سے دوری اور تنہائی کا عالم ۔۔۔ اس نے ہمارے دیس کے نہ جانے کتنے ہیرے چھین لیے ، وہ بھی انتہائی بے بسی اور بے کسی میں ۔
اللہ تعالیٰ مرحوم اقبال کی کامل مغفرت فرمائے، اُنہیں جنتُ الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کرے، اور پسماندگان، عزیز و اقارب اور تمام دوست احباب کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ، صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین