کمسن لڑکیوں کا استحصال کرنے والا جیفری ایپسٹین کون ہے ؟
جیفری ایپسٹین 1953 میں نیویارک کے بروکلین علاقے میں پیدا ہوا۔ ایک متوسط طبقے کے یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایپسٹین نے یونیورسٹی میں تعلیم مکمل نہ کی لیکن ریاضی میں مہارت کے باعث اسکول میں پڑھانے کا کام کیا۔ دو سال بعد ملازمت سے نکال دیا گیا، لیکن اپنے تعلقات کے ذریعے بینک میں نوکری حاصل کر لی۔
ایپسٹین کا کیریئر اور تعلقات جلد ہی اس کے لیے دولت اور اثر و رسوخ کا ذریعہ بن گئے، مگر ساتھ ہی دھوکہ دہی، مشکوک مالی لین دین اور بعد میں کم عمر لڑکیوں کے استحصال جیسے الزامات بھی اس کے گرد چھا گئے۔
اس نے انتہائی پرتعیش مکانات، نجی جزیرہ، شاہانہ یاٹس اور طیارے حاصل کیے، جہاں امیر اور بااثر شخصیات کے لیے پرائیویٹ تقریبات اور ناجائز سرگرمیاں ہوتی رہیں۔ ایپسٹین کے خلاف پہلی شکایت 1996 میں ماریا فارمر نے درج کرائی، لیکن اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے کیس دب گیا۔
2005 میں فلوریڈا کی پولیس کو ایک 14 سالہ لڑکی کی شکایت موصول ہوئی، جس کے بعد تحقیقات شروع ہوئیں۔ متاثرین کی تعداد 250 تک پہنچ گئی، مگر ایپسٹین 2008 میں سزا سے قبل استثنا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
اس دوران ایپسٹین کی معاون غزلین میکسویل نے کم عمر لڑکیوں کو ورغلانے اور انتظامات میں اس کی مدد کی۔ اس کے جزیرے پر بل کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ، بل گیٹس اور دیگر عالمی شخصیات آتی رہیں، جس سے اس کے اثر و رسوخ کا دائرہ مزید بڑھ گیا۔
2018 میں میامی ہیرالڈ نے اس کیس پر تفصیلی تحقیقات شائع کیں، جس میں 80 سے زائد متاثرین کے انٹرویوز شامل تھے۔ اس کے بعد 2019 میں جیفری ایپسٹین کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن 35 دن بعد اسے جیل میں مردہ پایا گیا، جس پر شدید شکوک و شبہات موجود ہیں۔
ایپسٹین کی معاون غزلین میکسویل کے خلاف بھی مقدمہ چلا اور 60 لاکھ دستاویزات قبضے میں لی گئیں، جن میں ای میلز، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر اہم شواہد شامل تھے۔ اس میں سے 35 لاکھ دستاویزات عوام کے سامنے آئیں، جنہوں نے عالمی سطح پر حیرت اور صدمے کے انکشافات کیے۔
یہ کیس نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا اسکینڈل بن گیا بلکہ عالمی سطح پر طاقتور شخصیات، سیاسی تعلقات اور معاشرتی اخلاقیات پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر گیا۔